خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 923
خطبات طاہر جلد 14 923 خطبہ جمعہ 8 دسمبر 1995ء سے میراتعلق کبھی نہ ٹوٹے کیونکہ ٹوٹا تو پھر وہ سلسلہ ٹوٹتا چلا جائے گا۔یا انسان آگے بڑھ سکتا ہے یا پیچھے ہٹ سکتا ہے۔یہ سب کچھ کہنے کے بعد، یہ سب مناجات کرنے کے بعد آپ تعرض کرتے ہیں تیرے سوا کوئی معبود نہیں لا الہ الا انت اور توحید کی یہ ساری تصویر ہے جو کھینچی جارہی ہے۔پس اپنی دعاؤں میں اس مضمون کو یا درکھیں جو نور سے شروع ہوا ہے اور سارا سفر نور کا سفر ہے۔اگر چہ بار بار لفظ نور استعمال نہیں ہوا مگر حقیقت میں تو حید اور نور ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور اس پہلو سے اس توحید کی مثال تو دی جاسکتی ہے۔یعنی تمثیل تو بیان کی جاسکتی ہے۔وہ اپنی ذات میں کسی اور کو مکمل طور پر نصیب ہو ہی نہیں سکتی اگر ہوگی تو پھر شرک ہو جائے گا۔پس اسی لئے مَثَلُ نُورِم ( النور : 36) فرمایا ہے۔آنحضرت ﷺ تمام صفات میں اس حد تک آگے بڑھے کہ ہر اس صفت کو جو انسان کی تشکیل میں خدا تعالیٰ نے ازل سے رکھی ہوئی تھی مگر جس کی طرف باشعور بڑھنا مقدر فرما دیا تھا۔ہر ایسی صفت کو باشعور طور پر آگے بڑھ کر اپنا لیا اور ہمیشہ کے لئے اس میں اپنے وجود کوضم کر دیا اور اسے اپنے وجود پر طاری کر لیا پھر آپ وہ نور بنتے ہیں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَثَلُ نُورِ؟ مگر اس کے باوجود وہ نور، اللہ نہیں ہے بلکہ مخلوق ہے اور آنحضرت ﷺ نے اپنے نور کو مخلوق ہی قرار دیا ہے۔فرمایا ہے جو و جو دسب سے پہلے وجود مخلوق کیا گیا وہ میرا نور تھا۔اب اس ضمن میں تخلیق نور میں سب سے پہلے ہونے سے کیا مراد ہے۔یہ وضاحت کروں تو پھر اس کے بعد میں اگلے اقتباسات کی طرف متوجہ ہوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی بات آنحضرت ﷺ کے متعلق لکھی ہے اور انہی احادیث پر وہ پینی ہے جن میں آنحضور کا سب سے پہلے وجود پذیر ہونا بتایا گیا ہے۔اس سے عام طور پر جو صوفی مزاج لوگ لکھتے ہیں تو وہ یہی تصور پیش کرتے ہیں کہ جب کچھ بھی نہیں تھا تو گویا محمد رسول اللہ ﷺ کو بنادیا گیا تھا۔یہ درست نہیں ہے یہ غلط بات ہے۔محمد رسول اللہ ﷺ جب انسان کے روپ میں پیدا ہوئے ہیں تو اس وقت معرض وجود میں آئے ہیں لیکن اس کے باوجود آپ سب سے پہلے بنا گئے اس کا کیا مطلب ہے۔اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ہر چیز جو انسان بنانا چاہتا ہے یا کوئی بھی خالق بنانا چاہتا ہے جب تک اس کا منتہی اس کے ذہن میں نہ ہو اس کا آغاز بھی نہیں ہو