خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 904 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 904

خطبات طاہر جلد 14 904 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1995ء ہوئی تھی وہاں تو مَثَلُ نُورِ؟ فرمایا گیا تھا اور یہاں ساری کائنات کو اللہ کا نور کہہ دیا گیا ہے تو کہیں صلى الله کوئی یہ دھو کہ نہ کھالے کہ کائنات تو ساری کی ساری نور خدا ہے اور محمد رسول اللہ یہ صرف ایک مثال ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوئی لفظ بھی ضرورت سے زائد نہیں رکھتے اور جولا زم ہیں وہ ضرور رکھتے ہیں۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ یہاں اصل کا لفظ حذف ہے۔مراد یہ ہے کہ دراصل اللہ ہی نور ہے اور جو کچھ تمہیں دوسری صورتیں دکھائی دیتی ہیں وہ اس کے نور کا پر تو ہے۔۔۔۔ہر ایک نور زمین و آسمان کا اسی سے نکلا ہے پس خدا کا نام استعارہ پتا رکھنا ( جیسے باپ کہا گیا ہے بائبل میں ) اور ہر ایک نور کی جڑ اسی کو قرار دینا اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسانی روح کا خدا سے کوئی بھاری علاقہ 66 ہے۔۔۔(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ: 387،386) یعنی روح انسانی کا خدا تعالیٰ سے کوئی ایسا رشتہ ہے جس کو لفظ نور کے اشتراک سے ظاہر فرمایا گیا ہے۔وہی نور انسان کی روح کی صورت میں جلوہ گر ہوا ہے کیونکہ اس روح نے بالآخر اللہ کے نور کی طرف حرکت کرنا تھی یہ مراد ہے اور خدا کا نور جب کہا جاتا ہے تو کیا مراد ہے؟ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ فرماتے ہیں ان الله لا ينام صحیح مسلم کتاب الایمان سے حدیث لی گئی ہے جس کا عنوان ہے اللہ تعالیٰ یقینا نہیں سوتا۔عن ابي موسى قال قام فينا رسول الله الله بخمس كلمات “ پانچ باتوں صلى الله کے لئے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوے یعنی پانچ باتیں بیان فرماتے ہوئے فقال ان الله عز وجل الاينام ولا يبتغى له ان ينام که یقینا اللہ تعالیٰ صاحب عزت و جلال نہیں سوتا نہ ہی اسے زیبا ہے نہ اس کی شان کے مطابق ہے کہ وہ سوۓ یــخــفــض القسط و یرفعہ وہ تکڑی کے پلڑوں کو نیچا بھی کرتا ہے اور اونچا بھی کرتا ہے۔قسط معنی انصاف۔تو مراد ہے کہ تکڑی کے دو پلڑے ہوتے ہیں کوئی پلڑ انیچا ہو جاتا ہے کوئی اوپر چلا جاتا ہے۔مفسرین کہتے ہیں یہاں مراد ہے کہ اعمال کا وزن کرتا ہے وہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس کے اعمال ہلکے ہیں اور کس کے بھاری ہیں، کس کے قابل قدر ہیں کس کے رد کے لائق ہیں و یرفع اليه عمل الليل قبل عمل النهار پیشتر