خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 903
خطبات طاہر جلد 14 903 خطبہ جمعہ یکم رو سمبر 1995ء الله گیا، سابقہ گنا ہوں سے تعلق کاٹ بھی دیا گیا ۔ تو اگر چہ یہ بھی انسان سوچ سکتا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ ماضی کی ان کمزوریوں کا حوالہ دے رہے ہوں جن کے نتیجے میں ان کا نور مکمل ہونے میں کچھ کمی رہ گئی ہے یا نسبتا کمی رہ گئی ہے۔ مگر چونکہ اس قافلے کے قافلہ سالار حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جو آغاز ہی سے نور بنائے گئے تھے اور پاک اور صاف اور ہر قسم کے عیوب کے داغ سے منزہ یہاں تک کہ کشفاً بچپن میں آپ کے دل کو دوبارہ بھی دھویا گیا یعنی تخلیق کے بعد بھی کشفی حالت میں فرشتے نازل ہوئے اور انہوں نے آپ کے دل کو دھویا ۔ تو جس کو ایسی پاکیزگی اور ایسی عصمت نصیب ہو اس کے تعلق میں جب بخشش کی دعا کے متعلق انسان سوچتا ہے تو ہرگز وہ مراد نہیں ہوسکتی جو عام دنیا کی فہم میں ہے۔ صرف ذنوب کی بحث باقی رہ جاتی ہے اس لئے میں نے کہا تھا یہ الگ وسیع مضمون ہے مگر جب محض بخشش کا لفظ آئے تو اس وقت میرے نزدیک بخشش سے مراد محض عطائے کامل ہے جس کا استحقاق سے کوئی تعلق نہیں اور یہاں ذنوبنا کو کوئی ذکر نہیں ۔ رَبَّنَا اتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا اے ہمارے رب ہمارے نور کو کامل فرمادے اور خواہ ہمیں استحقاق ہو یا نہ ہو کہ ہم اس منزل سے آگے بڑھیں تو ہمیشہ ہم سے ایسا بخشش کا معاملہ کر کہ تیری عطا، تیرا رحم ہماری کمائیوں محنتوں اور کوششوں سے بالا ہو۔ اس سے مستثنیٰ اور بے نیاز ہو اور محض تیری طرف سے اترے إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قدیر تو اس چیز پر بھی قادر ہے یعنی ہر چیز پر قادر ہے تو چاہے تو اپنے بندے کو بے حساب دے دے، چاہے تو بندے کو بغیر حق کے دے دے۔ بے حد گناہ گار ہو اس کو بھی دھو دے اور پاک صاف کر دے۔ جب تیری ذات ایسی کامل اور ایسی مقتدر ہے، ہر چیز پر تو قدیر ہے تو پھر ہمارا دعا مانگنا بے محل نہیں ہے۔ اس نور کے تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور اقتباس یا چند اور اقتباس آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نور کی مثال بننے کے لحاظ سے کچھ اور باتیں وضاحت طلب ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اللَّهُ نُورُ السَّمُوتِ وَالْأَرْضِ (النور: 36) یعنی خدا اصل نور ہے۔ ہر ایک نورزمین و آسمان کا اسی سے نکلا ہے ۔۔۔“ یہاں اصل نور کا لفظ یہ ظاہر کرنے کی خاطر ہے کہ جہاں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بات