خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 902
خطبات طاہر جلد 14 902 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1995ء اب جہاں تک بخش کا تعلق ہے یہ ایک چھوٹی سی الجھن باقی رہ جاتی ہے کہ جنت میں کون سے گناہ ہوں جن کی بخشش کی طلب ہے اور یہ مضمون آنحضرت ﷺ کی بخشش کی دعاؤں کا مضمون بھی کھول رہا ہے۔بخشش گناہوں کی موجودگی کو نہیں چاہتی ، ضروری نہیں ہے کہ گناہ کے بغیر بخشش نہ مانگی جائے۔بخشش میں کچھ اور بھی مضامین ہیں اور نور والوں کے تعلق میں بخشش اور معنے رکھتی ہے۔وہ نور جو بھی تمام کو نہیں پہنچا جبکہ سفر کرنے والے بہت ہیں اور ہر ایک کے نور کی منزل الگ الگ ہے۔اس سے پتا چلتا ہے کہ ہر شخص کو نو ر اس کی حسب استطاعت ملا ہے اور اس میں خدا تعالیٰ نے کوئی حتمی فیصلہ ایسا نہیں فرمایا کہ جبر کسی کو کم دے دیا اور کسی کو زیادہ دے دیا۔نور کے کم ہونے یا زیادہ ہونے کا تعلق اس شخص کی اپنی کمزوریوں سے ہی ہو سکتا ہے۔ان سابقہ اعمال سے بھی ہوسکتا ہے کس کے نتیجے میں ان کی نورانی شکل بنی جس کے ساتھ وہ جنت میں سفر کریں گے۔تو وہ دعا کریں گے وَاغْفِرْ لَنَا نور مانگنے کے بعد کہ ہمارا نور کامل فرما دے، ساتھ یہ دعا بھی ہوگی کہ اگر کامل نہیں ہوا تو کچھ ہماری اندرونی کمزوری رہ گئی ہے، کچھ ہماری جدو جہد میں کمی واقع ہوئی ہوگی ، کچھ ایسی بات تو ضرور ہے کہ ہمیں نسبتاً کم نور عطا ہوا ہے۔پس وہ قافلہ جو ہے اس کا نور یکساں نہیں ہے اور ہر جو قافلے میں شامل انسان ہے اس کی دعا ان معنوں میں الگ الگ ہے اس کی بخشش کا مضمون بھی الگ الگ ہے۔آنحضرت ملے کی بخشش کا مضمون بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اس دنیا کی دعاؤں میں بھی گناہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔بخشش دراصل وہ جو ہمارے اردو اور پنجا بیمیں کشیش کہا جاتا ہے اس سے بھی بخشش ایک تعلق رکھتی ہے کیونکہ غفران کا تعلق ایسی عطا سے ہے جس کا بندہ حق دار نہیں ہوا کرتا اور بے حق کے مانگتا ہے دور نہ گناہ گار کو کبھی بخشا جا ہی نہیں سکتا۔گنہگار کی بخشش اس کے حق کی وجہ سے نہیں خالصہ عطا سے تعلق رکھتی ہے اور غالبا یہی وجہ ہے کہ پنجابی میں خصوصاً اور اردو میں بھی لفظ کشیش جگہ بنا گیا ہے کہ ہمیں بخشیش کر۔تو مراد ایسی عطا ہے جس کے ہم ہر گز حق دار نہیں ہیں اپنے فضل اور رحم کے ساتھ ہمیں عطا کر دے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی بخشش کی دعا ئیں اس مضمون سے تعلق رکھتی تھیں اور بھی مضامین ہیں لیکن یہ خصوصیت کے ساتھ میرے پیش نظر رہتا ہے اور یہاں جنت میں بخشش کی دعا مانگنا قطعی طور پر ثابت کر دیتا ہے کہ یہ استنباط غلط نہیں ہے کیونکہ جنت میں تو کوئی گناہ نہیں ہوں گے۔داخل اس وقت کیا گیا جبکہ کمزوریاں بھی دور کر دی گئیں اور بخش بھی دیا صل الله