خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 898 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 898

خطبات طاہر جلد 14 898 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1995ء تفاصیل موجود ہیں اس لئے نسبتاً اختصار ہے ورنہ جہاں تک دکھائی دیتا ہے میں باتیں کھول کھول کر ہی پیش کر رہا ہوں۔یہ آیت کریمہ جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَصُوحًا اللہ کے حضور کے تو بہ کرتے ہوئے جھک جاؤ، اس کی طرف تو بہ کرتے ہوئے رجوع کرو۔نَّصُوحًا ایسی تو بہ جو تَوْبَةً نَصُوحًا ہو۔نصوحا سے مراد ہے خالص ایسی تو بہ جو اللہ کے لئے بھی خالص ہو اور تمہیں بھی خالص کرنے والی ہو، پاک صاف کرنے والی ہو۔عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ تُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيَّاتِكُمْ تو بہ تم کرو گے اور صفائی اللہ عطا فرمائے گا۔تو بہ کا جہاں تک تعلق ہے اس کا نصوحا ہونا تمہارے دل کی پاکیزگی اور خالص عزم سے تعلق رکھتا ہے مگر توفیق انسان کو اپنی پاکیزگی کی نہیں مل سکتی۔ارادہ نیک ہو کوشش مخلصانہ ہو تو فرمایا عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيَّاتِكُمُ ایسا ہو تو ہرگز بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہاری کمزوریوں کو دور فرمادے ، تمہاری برائیاں تم سے دور ہٹا دے۔وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّتٍ دور۔تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهرُ پھر تمہیں ان جنتوں میں داخل فرمائے جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔يَوْمَ لَا يُخْزِى الله النَّبِيَّ وَالَّذِينَ امَنُوا مَعَهُ جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو رسوا نہیں کرے گا اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ہیں۔نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ ان کا نوران کے سامنے بھی چل رہا ہوگا اور ان کے دائیں ہاتھ بھی چل رہا ہوگا۔يَقُولُونَ رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وہ یہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے نور کو تام کر دے مکمل کر دے۔وَاغْفِرْ لَنَا اور ہمیں بخش دے إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ يقيناً تو ہر چیز پر قادر ہے۔یہاں پہلی بات تو یہ قابل توجہ ہے کہ مغفرت کی اور برائیوں کے دور کرنے کی شرط تَوْبَةً نَصُوحًا ہے اور آنحضرت ﷺ کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آپ کے اندر کوئی بھی کدورت نہیں تھی تو مراد یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا داغ نہیں تھا، کوئی بھی ایسی میل نہیں تھی جو آپ کی روح کے خلوص پر ایک دھبہ بن سکتی ہو یا خدا سے تعلق کی راہ میں حائل ہو یا اس کے نور کے راستے میں ایک پردہ ڈال دے اور پوری طرح خدا کے نور کو آپ اخذ نہ کر سکتے