خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 897
خطبات طاہر جلد 14 897 خطبہ جمعہ یکم دسمبر 1995ء نورالہی بصارت عطا نہ کرے تو انسان اپنے نقص بھی نہیں دیکھ سکتا اور جب تک نقص دور نہ ہوں اور الہی عطا نہیں ہو سکتا۔(خطبه جمعه فرموده یکم دسمبر 1995ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کی۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ اَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا اج الْأَنْهرُ يَوْمَ لَا يُخْزِى اللهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ امَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (اتحريم (2) پھر فرمایا:۔نور ہی کے تعلق میں خطبات کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور آئندہ بھی شاید چند خطبات اسی سلسلے کے لئے وقف رہیں گے۔بہت ہی وسیع مضمون ہے اس لئے تھوڑے وقت میں اختصار بھی کیا جائے تب بھی وہ پوری طرح پیش نہیں کیا جا سکتا۔اختصار اور پوری طرح سے مراد یہ تھی کہ اس حد تک اختصار جس سے سمجھ کچھ نہ آئے وہ کیا تو جاسکتا ہے مگر فائدہ کوئی نہیں۔پوری طرح اختصار سے مراد یہ تھی کہ اس حد تک اختصار کہ جو کچھ کہنا ہے اس کی سمجھ تو آ جائے۔اس لئے کوشش میں کرتا ہوں کہ اختصار رہے مگر اس کے باوجود تفصیل کے ساتھ بعض باتیں سمجھانی پڑتی ہیں جن کی اس سے بھی زیادہ