خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 887
خطبات طاہر جلد 14 887 خطبہ جمعہ 24 نومبر 1995ء صلى الله عرصہ ہو جائے تو گویا وہ مٹ ہی جاتی ہیں مگر ان کے نشانات باقی رہ جاتے ہیں یہ بتانے کے لئے کہ اللہ نے تمہیں کیا دیا تھا۔پس وہ قومیں جو بدنصیبی سے ہزاروں سال تک بداخلاقی پر قائم رہتی ہیں ان کا یہی حال ہو جاتا ہے۔پس ہم نے تو ویسا نہیں بننا۔ہمیں تو آنحضرت ﷺ کا نمونہ عطا کر کے ہماری ہر صلاحیت کو پیروی کی راہیں دکھا دی گئیں ہیں اور ایک عظیم صراط پر دوڑا دیا گیا ہے اور کہا ہے سب کو ساتھ لے کر چلو۔جہاں بھی کسی صفت کو تم نے کالعدم کر دیا یا توجہ، جیسا کہ حق ہے نہ دی اس حد تک تم رسول اللہ کے توازن کے حسن سے محروم ہوتے چلے جاؤ گے۔روشنی تو ہے اگر روشنی کی پیروی کی جائے مگر جہاں سب رنگوں کا امتزاج ہو جہاں تمام رنگ بیک وقت ایک تناسب سے جلوہ گری کریں وہاں اس سے جتنا بھی وہ روشنی ہے گی اس حد تک اس روشنی کا رنگ روپ بدل جائے گا۔اب سورج کی روشنی اپنی ذات میں وہ کامل توازن رکھتی ہے جو مادی روشنیوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے۔جتنا آپ اس سے ہٹتے ہیں اتنا ہی روشنی کا روپ بدلتا رہتا ہے اور اگر آپ موازنہ نہ کریں تو بعض دفعہ ہمیں خیال بھی نہیں آتا کہ فرق ہے۔رات کے وقت تیز روشنیاں جل رہی ہیں بھول جاتا ہے انسان کہ اس روشنی کا سورج کی روشنی سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔جب سورج چڑھے پھر ساری روشنیاں پھیکی پڑ جاتی ہیں۔ان کے چہرے پر کوئی نور دکھائی نہیں دیتا۔الله پس محمد رسول اللہ ﷺ کو سورج کہنا ان معنوں میں ہے کہ ایسے کمال کے اخلاق ہیں، ایسے آخری مقام تک پہنچے ہوئے ہیں، درجہ منتہا تک کہ جب آپ کا سورج طلوع ہو تو ہر نور والے کا چہرہ اس کے مقابل پر پھیکا پڑ جاتا ہے یا جس حد تک وہ خام ہے، جس حد تک اس نور کی بعض صفات سے عاری ہے اس حد تک اس کا رنگ بدل جاتا ہے۔ویسی روشنی دکھائی نہیں دیتی۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ امت محمدیہ پر بہت بڑا احسان بھی ہے کہ ایسا کامل نور پیروی کرنے کے لئے عطا فرمایا لیکن ذمہ داریاں بھی بہت بڑھ گئیں ، محنت بھی بہت شاقہ ہے جو کرنی پڑے گی لیکن آسان بھی تبھی ہوگی اگر آنحضرت ﷺ کے نور کے اس پہلے حصے پر غور کریں جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صفات کے بیان کا آغاز فرمایا ہے۔” تازہ روی۔تازہ روی کے بغیر اس نور کی پیروی ممکن ہے نہ ہمارے اندر طاقت ہے بلکہ برعکس صورت پیدا ہو سکتی ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا دیکھو دین کو