خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 83
خطبات طاہر جلد 14 883 83 خطبہ جمعہ 3 فروری 1995ء خدا میں کوئی تضاد نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اس کی کائنات میں نظر ڈال کر دیکھو تمہیں کہیں کوئی تضاد دکھائی نہیں دے گا۔نظر دوڑاؤ ، کائنات کی پنہائیوں میں اتر جاؤ تمہیں کوئی تضاد دکھائی نہیں دے گا۔پھر دوبارہ نظر ڈالو تمہاری نظر تھکی ہاری لوٹ کر تمہاری طرف آجائے گی مگر تمہیں خدا کی کائنات میں کوئی تضاد دکھائی نہیں دے گا۔پس جس خدا نے دنیاوی تدبیر کا نظام جاری فرمایا اور اب ہا ارب سال ہماری تعمیر کے ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ نظام بہت ہی مؤثر اور کارگر ہے اس نظام میں مرکزی نقطہ توجہ ہے اور کوشش اور جدو جہد ہے جو دلی تمنا کو چاہتی ہے اور دلی تمنا ہو تو اضطراب پیدا ہوتا ہے، دلی تمنا ہو تو جب تک آپ اپنی خواہش کو حاصل نہیں کر سکتے آپ بے چین ہوتے ہیں اور یہ تمنا جتنی بڑھتی ہے اتنا ہی اضطراب بڑھتا ہے۔پس سوال یہ ہے کہ دعا کا نظام اس عام قانون قدرت کے سوا کیوں بنایا گیا ؟ عام لوگوں کو کیوں اس سے محروم رکھا گیا ؟ دراصل خدا کی ہستی کے یقین کا سب سے موثر ذریعہ دعا ہے اور خدا کے ساتھ رہنے کا جو محاورہ ملتا ہے وہ دعا ہی کے ذریعہ سمجھ آتا ہے۔اس کے بغیر یہ محض منہ کی باتیں ہیں۔کہتے ہیں Communion with God انگریزی میں بھی محاورہ ہے۔عیسائی اس پر بڑا فخر کرتے ہیں ، اچھا محاورہ ہے مگر محاورہ ہے۔کیسے خدا کے ساتھ انسان رہ سکتا ہے۔یہ مضمون دعا سکھاتی ہے اور رمضان دعا کے مضمون کو سکھانے کا سب سے مؤثر مہینہ ہے۔رمضان سے زیادہ دعا کا مضمون سمجھ نہیں آسکتا لیکن دعاؤں میں اضطراب ہونا چاہئے۔اضطراب اس لئے کہ آپ کی دلی توجہ اس طرف ہو قانون قدرت میں، جس طرح آپ کوشش کرتے ہیں ہر اس چیز کے لئے جس کی خواہش ہو یہاں تک کہ جب محبت سے کوشش کرتے ہیں تو بعض دفعہ محبت پاگل پن کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ایسا اضطراب، ایسا جنون ، اگر دعاؤں میں آئے گا تو دعائیں بھی پھل لائیں گی اور اس روحانی نظام میں آپ خدا کی ہستی کے ایسے شواہد دیکھیں گے جو ساری کائنات میں بکھرے ہوئے ہیں لیکن آپ غافل آنکھوں سے اس کو دیکھتے ہیں کیونکہ وہ روز مرہ کا ایک دستور بن گئے ہیں۔دعا اس روزمرہ کے دستور سے آپ کے ذہن کو الگ کرتی ہے، ایک ایسا احساس مزید آپ میں پیدا کرتی ہے کہ جہاں آپ جانتے ہیں کہ دعا اگر سنی گئی تو یہ کام ہوگا ورنہ نہیں ہوگا۔جہاں سب دوسرے ذرائع ٹوٹ جاتے ہیں۔سب دوسری راہیں بند ہو جاتی ہیں۔حیلے سب جاتے رہے اک حضرت تو اب ہے“۔