خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 868 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 868

خطبات طاہر جلد 14 868 خطبہ جمعہ 17 /نومبر 1995ء الله کیونکہ خطبے میں قرآن کی باتیں ، حدیث کی باتیں، رسول اللہ ﷺ کی باتیں اور ایسے عظیم مضمون ہو رہے ہوتے ہیں کہ مجھے وہ کچھ کا کچھ بنا بیٹھیں۔میں چونے اتار کر بھی ان کے سامنے آتا ہوں جس طرح اپنے گھر میں کپڑے کوٹ اتار کے صرف سادہ لباس میں انسان اپنے گھر میں بیٹھ جاتا ہے اس کو وہ اس نظر سے بھی دیکھتے ہیں جو محض انسانی اور بشری نظر ہے۔تو ان سب امور کے فوائد ہیں اور یہ واقعہ ہے۔بہر حال کثرت سے ایسے لوگ ہیں جو دنیا کے کونے کونے سے محض اس لئے ان کلاسوں کے وقت اپنے ٹیلی ویژن On کر لیتے ہیں کہ خلیفہ وقت سے ایک احمدی کا ایسا محبت کا رشتہ ہے کہ جو کچھ بھی کہے وہ دیکھنا چاہتا ہے وہ کیا کر رہا ہے بلکہ نہ بھی سمجھے تو بیٹھا رہتا ہے بسا اوقات۔اس عورت کی بات نہیں بتائی تھی وہ کہتی تھی کسی نے پوچھا کہ تم تو بولی ہو یعنی کانوں سے بہری ہو۔کچھ سمجھ نہیں آئی کیا کرتی رہی وہاں بیٹھ کے۔اس نے کہا ” ڈٹھیا بڑا اے سنا تو کچھ نہیں پر دیکھا بڑا ہے۔تو محبت کی باتوں میں وہ دلائل کام نہیں آتے کہ یہ سند یافتہ ہے کہ نہیں ہے اور جہاں تک سند یافتہ ہونے کا تعلق ہے یہی مضمون تو چل رہا ہے اس وقت کہ بسا اوقات ایک شخص سند یافتہ نہ بھی ہو وہ براہ راست خدا سے سیر یافتہ ہو یا سیراب ہو رہا ہو بعض معنوں میں تو اس کی تعلیم اور ایک سند یافتہ کی تعلیم میں ایک فرق ضرور ہوتا ہے وہ دل کی گہرائی میں اتر کے تعلیم دیتا ہے وہ فطرت کے قریب رہ کر تعلیم دیتا ہے کوئی تصنع نہیں اور اس پہلو سے خواہ اردو زبان کا معیار ہو نہ ہو تعلیم کی روح اس میں ضرور موجود رہتی ہے اور یہ میں نے اس لئے جاری کیا ہے بتا چکا ہوں کہ تا کہ سب دوسروں کے لئے نمونہ ہو اور کثرت سے جو احمدی اس زبانوں کی تعلیم کے ویڈیوز تیار کر رہے ہیں اپنی اپنی زبان کی ، ان سے میں نے کہا ہے وہ دیکھا کریں کہ میں کس طرح کرتا ہوں سو فیصدی اس کی نقل نہیں اتارنی مگر عمومی انداز ویسا ہی ہوتا کہ کوئی جرمن سیکھ رہا ہو تو اس کو اسی بے تکلف انداز میں جرمن سکھائی جائے جس طرح میں کوشش کرتا ہوں کہ اردو سکھائی جائے۔اسی طرح دوسری زبانیں ہیں تو ان کو بھی ضرورت ہے کہ وہ مجھے دیکھ دیکھ کر اس انداز کو اختیار کریں جو میں نے بتایا تھا کہ فطرت کا انداز ہے جس پر مائیں بچوں کو سکھاتی ہیں اور مائیں جب بچوں کو سکھاتی ہیں تو اس سے پہلے ان کو کوئی علم نہیں ہوتا کسی سکول کی تربیت یافتہ نہیں ہوتیں۔دنیا جہان کی مائیں خواہ کسی زبان سے تعلق رکھتی ہوں کسی قوم سے تعلق رکھتی ہوں ، وہ