خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 860 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 860

خطبات طاہر جلد 14 860 خطبہ جمعہ 10 نومبر 1995ء واقف نہیں ہوں گے یہ سفر کر ہی نہیں سکتے اور نور کی طرف سفر ہمارا لازم ہے کیونکہ قرآن کریم نے مذہب کا خلاصہ یہ بیان کیا ہے کہ اللہ اور اللہ والے خدا کے بندوں کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالتے ہیں۔پس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کے متعلق کہا جائے کہ جی آپ تو صاحب علم لوگوں کی بات کر رہے ہیں۔صاحب علم کی باتیں نہیں ہر انسان کی ضرورت کی لازمی باتیں ہیں۔اس کو ان لطائف کے انداز میں نہ سمجھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے جاری ہوئے ہیں، آپ کے قلم سے جاری ہوئے ہیں لیکن ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب آسان بنا کر عام زبان میں آپ کو دکھا دیتے ہیں تو اس کو سمجھنا لا زم ہے اس سے تو کوئی مفر نہیں ہے۔پس نور کا سفراب خلاصہ میں اس خطبے کا خلاصہ یوں نکال رہا ہوں کہ نور کا سفر چاہتا ہے کہ ہم اپنے دل کو کدورتوں سے پاک کریں۔نور کا سفر چاہتا ہے کہ ہم اپنے سینے کو کشادہ کریں، اپنے خاندان کے تعلقات سے بھی کشادہ کریں، اپنی قوم کے تعلقات سے بھی کشادہ کریں اور اپنے مذہب ، ہم رنگ، ہم نسل لوگوں کے دائرے سے بھی اس کا دائرہ وسیع تر کر دیں۔یہ سینہ جب اتنا کشادہ ہو جائے گا تو پھر نور محمدی ﷺ کو قبول کرنے کے لئے اس میں استطاعت پیدا ہو جائے گی کیونکہ آنحضرت ﷺ کا سینہ کل عالم کو سمیٹنے کے لئے وسیع فرما دیا گیا تھا۔اس لئے سینہ' مشروح محمدی ﷺ اس کو کہتے ہیں پس اپنے سینے کو وسعت دیں اور پھر اپنے دل کو ان کثافتوں سے پاک کریں جو دنیاوی آلائشوں کی کثافتیں ہیں کیونکہ جب آپ صاف کریں گے تو پھر وہ فطرت میں جو نور ہے وہ بھی دکھائی دینے لگے گا، وہ بھی جولانی دکھائے گا اور وہ نور جو آسمان سے اترا کرتا ہے اسے قبول کرنے کی بھی صلاحیت پیدا ہوگی۔یہ وہ مضمون ہے جو باقی آیت کے حصے میں اور کھول کر بیان فرمایا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر کے ابھی کئی صفحے باقی ہیں اس لئے میں انشاء اللہ آئندہ خطبے میں جہاں اس مضمون کو چھوڑا ہے وہاں سے شروع کروں گا۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ