خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 859 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 859

خطبات طاہر جلد 14 859 خطبہ جمعہ 10 /نومبر 1995ء تک صیقل ہو چکے تھے کہ عام انسانوں کے حواس سے بڑھ کر ان میں ایک نور پیدا ہو چکا تھا۔ایسی عقل لطیف جو نورانی ہو محمدی عقل کی طرح ” مع جمیع اخلاق فاضلہ فطرتیہ ہے یعنی صرف یہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ اخلاق فاضلہ کا ہونا ضروری ہے اس لطیف چشمہ نور سے جو ایک تیل کی مثال کے طور پر بتایا گیا ہے۔آپ فرماتے ہیں اخلاق فاضلہ بھی پھوٹتے ہیں یہ جب اکٹھے ہو جائیں تو اس عقل کامل کے چشمہ صافی سے پروردہ ہیں اور وحی کا چراغ لطائف محمد یہ سے روشن ہونا ان معنوں کے لحاظ سے۔“ 66 اب یہ دیکھیں آپ ہے کہ نور کی جو لطافتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مثال سے سمجھی ہیں اس مثال سے ان لطافتوں کو سمجھنا ایک نور کا تقاضا کرتا ہے اور وہ نور کی آنکھ ہی ہے جو نصیب ہو تو انسان نور کو دیکھ سکتا ہے جس طرح دنیا کی آنکھ سب کو برابر میسر ہے اور آیت کے پہلے حصے کے ساتھ اس کا تعلق ہے۔الله نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ اسی طرح دوسرے حصہ کے ساتھ عباداللہ کا تعلق ہے جن پر شیطان کا غلبہ نہیں ہے۔ان کے غلبے سے آزاد شیطانی غلبے سے آزاد خدا کے بندوں کو نور عطا ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا نور فطرت بھی چمک رہا ہوتا ہے، ان کے اخلاق فاضلہ بھی لطیف تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کا سفر خدا کی طرف اس طرح ہوتا ہے کہ ہر لحظہ ان کے اندروحی کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی رہتی ہے۔یہ سفر جو صراط مستقیم کا سفر ہے جو اوسط رستے کا سفر ہے۔جب انبیاء کی منزل میں داخل ہوتا ہے اور اسے اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی آخری منزل فرمایا گیا ہے۔اس منزل میں داخل ہو کر یہ وحی کو قبولیت کی صلاحیتیں جو پہلے بھی رکھتا تھا ان صلاحیتوں کو بروئے کار لے آتا ہے۔صلاحیتیں موجود تھیں، وہ عمل کی دنیا میں ڈھلتی ہیں اور ان کے نتیجے میں کچھ پیدا ہونے لگتا ہے اور وہ وحی کا نزول ہے۔پس اللہ کی وحی جس پر چاہے نازل فرماتا ہے مگر بے سوچے سمجھے نازل نہیں فرماتا ، جو مستحق ہے اس پر نازل فرماتا ہے اور یہ فیض عام نہیں، فیض خاص ہے۔فیض عام سب پر برابر ہے اور فیض خاص ان بندوں پر ہے جنہوں نے شیطان کو رد کیا۔تو نور کی طرف حرکت کرنے کے یہ سارے مراحل ہیں۔ان کو سمجھانا محض عقلی لطف کے طور پر نہیں ایک ضرورت حقہ کے طور پر ہے۔آپ جب تک اس نور کے سفر کے آداب نہیں سمجھیں گے اس سفر کے طور طریق آپ پر روشن نہیں ہوں گے اس کے قوانین و قواعد سے