خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 855
خطبات طاہر جلد 14 855 خطبہ جمعہ 10 نومبر 1995ء نہایت جامعیت و کمال انواع و اقسام کی برکتوں کا مجموعہ ہے جس کا فیض کسی جہت و مکان و زمان سے مخصوص نہیں بلکہ تمام لوگوں کے لئے عام علی سبیل الدوام ہے اور ہمیشہ جاری ہے، کبھی منقطع نہیں ہوگا اور شجرہ مبارکہ نہ شرقی ہے نہ غربی۔۔۔یہاں آنحضرت ﷺ کے وجود کے متعلق فرمایا ہے کہ نہ یہ شرقی ہے نہ غربی ہے اس کا تعلق کل عالم سے ہے۔یعنی جس طرح زیتون ایک عالمی فیض کا درخت ہے جس کے تیل سے الله شرق و غرب برابر استفادہ کرتے ہیں محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود اپنے روحانی خصائل کے لحاظ سے شرق و غرب کی کوئی تمیز نہیں کرتا کسی ایک کے لئے آپ کے دل میں کوئی تعصب نہیں پایا جاتا، سب کے لئے برابر فیض رساں ہیں۔پھر فرماتے ہیں: "۔۔۔یعنی طینت پاک محمدی میں نہ افراط ہے نہ تفریط بلکہ نہایت توسط واعتدال پر واقع ہے۔۔۔“ دوسرا معنی اس کا یہ ہے کہ شرق و غرب نہیں یعنی نہ ایک طرف رجحان نہ دوسری طرف یعنی وسط میں واقع ہیں۔نہ شرقی نہ غربی کا مطلب ہے پنڈولم کے دو کناروں کی طرح یہ نہیں کہ آپ کسی ایک کنارے پر واقع ہوں یا ایک یا دوسرے پر بلکہ وسط میں جہاں قرار ملتا ہے پنڈولم کو جو ایک دائمی حالت ہے اور وہ شرق و غرب کی حرکتوں کی عین بیچ میں واقع ہے جو دونوں کے لئے یکساں اور سانجھا ہے اس مرتبہ وسط پر آ نحضرت ﷺ کو پیدا فرمایا گیا۔اس لئے تمام انسانی صلاحیتوں کے نقطہ نگاہ سے بھی آپ وسط میں واقع ہیں۔تمام انسانی تعلقات کے نقطے سے بھی آپ وسط میں واقع ہیں اپنی تعلیمات کے لحاظ سے بھی آپ وسط میں واقع ہیں اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ تعلیمات مشرق کے لئے تو موزوں ہیں مغرب کے لئے نہیں یا مغرب کے لئے تو موزوں ہیں مشرق کے لئے نہیں۔اس لئے وسطی ہونا آپ کے اعتدال، عدل اور انصاف کا بھی مظہر ہے اور آپ کے بہترین ہونے کا بھی۔اسی لئے اوسط کا لفظ عربی میں اعلیٰ اور ارفع کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔جو سب سے بیچ میں ہے وہ سب سے اعلیٰ ہے۔پس اس لحاظ سے آپ کا وجود شجرہ مبارکہ نہ شرقی ہے نہ غربی ہے۔