خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 854 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 854

خطبات طاہر جلد 14 854 خطبہ جمعہ 10 /نومبر 1995ء پس شجرہ طیبہ سے آنحضرت ﷺ کا وجود مراد ہے اور اس شجرہ طیبہ کی مثال زیتون سے دی گئی ہے۔زیتون کے تیل کے اور جو فوائد ہوں، یہ پاک تیل جب جلتا ہے تو کم سے کم دھواں پیدا ہوتا ہے اس سے بلکہ شاید دھواں نہ ہی پیدا ہوتا ہو۔میرے علم میں ظاہری تیل کی تفصیلات تو معلوم نہیں مگر آنحضرت ﷺ کی مثال اس سے بہتر دی نہیں جاسکتی تھی اس لئے اسی پر اکتفا ہے مگر کن معنوں میں یہ تیل محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات سے تعلق رکھتا ہے۔اس کی تشریح خود قرآن نے کر دی اور اس پہلو سے زیتون کا درخت بھی نیچے گرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔پس مثال کے لئے ضروری نہیں کہ جس کی مثال ہو اس پر بعینم چسپاں ہو۔اللہ کے نور کی مثال دی گئی ہے مگر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ عین اللہ تو نہیں ہیں اس لئے مثال کے وقت یہ جو کمزوریوں کا فرق ہے یہ ایک مجبوری ہے مثال کے وقت قریب ترین چیز ڈھونڈی جاتی ہے۔پس نور الہی کے لحاظ سے قریب ترین چیز محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔محمد رسول ﷺ کے وجود کی مثال کے لئے قریب ترین چیز شجرہ مبارکہ زیتون ہے جس کا تیل نہایت شفاف ہے اور بیماریوں سے پاک ہے اور کم سے کم کثافت رکھتا ہے۔اس مضمون کو طبی نقطہ نگاہ سے آپ یوں سمجھ سکتے ہیں کہ جتنے بھی Fats ہیں جن میں کھانے پکتے ہیں، جتنے بھی روغنیات ہیں جن سے کھانے پکتے ہیں ان میں تمام دنیا بھر کے سائنس دانوں نے تحقیق کے بعد یہ اتفاق کیا ہے کہ زیتون کا تیل کھانے والوں کو کم سے کم دل کا حملہ ہوتا ہے اور کسی اور روغن سے دل اتنا محفوظ نہیں جتنا اس روغن سے محفوظ ہوتا ہے۔پس وہ علاقے جہاں زیتون کا تیل کھایا جاتا ہے اور خوب کھایا جاتا ہے ان میں کم سے کم دل کے حملے کی واردات ہوتی ہے۔تو کثافت کے نقطہ نگاہ سے روغن چاہے کوئی بھی ہوا ایک کثافت اپنے اندر رکھتا ہے جو دل پر اثر انداز ہوتی ہے اور وہ کثافت نالیوں میں بیٹھتی ہے اور اس کے نتیجے میں دل غرق ہو جاتے ہیں تو زیتون میں آپ دیکھ لیں وہ کثافت کم سے کم ہے۔لیکن روحانی معنوں میں اللہ تعالیٰ نے اس کو یوں بیان فرمایا جو آگے ذکر آئے گا میں وہاں بتاؤں گا پھر۔اب واپس اس عبارت پہ چلتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی میں آپ کے سامنے پڑھ رہا تھا۔زیتون کے شجرہ مبارکہ سے وہ روشن کیا گیا ہے وو۔۔شجرہ مبارکہ زیتون سے مراد وجو دمبارک محمدی ہے کہ جو بوجہ