خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 843
خطبات طاہر جلد 14 843 خطبہ جمعہ 10 نومبر 1995ء فرمایا جو بھی مختلف شکلیں نور کی تم سوچ سکتے ہو وہ تمام تر شکلیں ”۔۔۔اسی کے فیض کا عطیہ ہے۔۔۔“ 66 یہ ہے مطلب اللهُ نُورُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ کا کہ کوئی بھی فیض ایسا نہیں جو کا ئنات میں ظاہر ہو یا مخفی ہو۔ اس صورت میں جو خدا سے فیض یافتہ نہ ہو۔ پس ان معنوں میں اللہ نُورُ السَّمواتِ کا مطلب یہ بنے گا کہ ہر مخلوق خدا تعالیٰ سے فیض یافتہ ہے اگر خدا کا فیض اس سے تعلق توڑ لے تو وہ کالعدم ہو جائے گی بلکہ عدم ہو جائے گی ۔ کوئی وجود، وجو د رہ ہی نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فیض اس پر جلوہ گری نہ کرے ۔ یہ عام معنی ہے جس کا رحمانیت سے تعلق ہے اور جانداروں، بے جانوں کا ئنات کا ذرہ ذرہ جو نظر آتا ہے یا نہیں آتا ان سب کا صفت رحمانیت سے تعلق ہے اور رحمانیت ان میں جلوہ گر ہے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس تشریح کے بعد فرماتے ہیں ۔ ”۔۔۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رب العالمین کا فیض عام ہر چیز پر محیط ہو رہا ہے اور کوئی اس فیض سے خالی نہیں ۔ وہی تمام فیوض کا مبدء ہے اور تمام انوار کا علت العلل اور تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے۔ اسی کی ہستی حقیقی تمام عالم کی قیوم اور تمام زیروز بر کی پناہ ہے۔ یعنی تمام کائنات کا قیوم اس کو سہارا دینے والا ہے اور ہر نیچے اور اوپر کی پناہ بھی وہی ہے۔ اس کو پناہ ملتی ہے تو خدا کی طاقت میں ملتی ہے۔ یہ تعریف ہے اللَّهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ کی۔ پھر فرمایا۔ وہی ہے جس نے ہر ایک چیز کو ظلمت خانہ عدم سے باہر نکالا یعنی نور کیوں کہا گیا ہے۔ عدم کو ظلمت خانہ قرار دیا ہے۔ عدم، وجود کے مقابل پر ایک ظلمت خانہ ہے اور عدم سے جب وجودا بھرتا ہے تو گویا نورا بھرتا ہے اور عدم سے وجود میں اچھالنے والی ذات اللہ کی ذات ہے۔ پس اس پہلو سے ہر چیز کا نور اللہ تعالیٰ ہے۔ دو ۔ ۔ جس نے ہر ایک چیز کو ظلمت خانہ عدم سے باہر نکالا اور خلعت