خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 842 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 842

خطبات طاہر جلد 14 842 خطبہ جمعہ 10 /نومبر 1995ء ”خدا آسمان و زمین کا نور ہے یعنی ہر ایک نور جو بلندی اور پستی میں ہے نظر آتا ہے۔۔۔66 صرف بلندی ہی کا نور سے تعلق نہیں۔ہر پستی کا بھی نور سے تعلق ہے۔۔۔۔یعنی ہر ایک نور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے خواہ وہ وو ارواح میں ہے، خواہ اجسام میں ہے اور خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی۔۔۔“ ذاتی سے مراد یہ ہے کہ اس کی ہیئت کے اندر بات داخل ہے اس کے جسم میں چیز داخل ہے اس کے وجود کا حصہ ہے اور عرضی کہتے ہیں ایسی صفات کو جو آتی جاتی رہتی ہیں۔ان صفات سے وجود کے حجم میں، اس کے وزن میں نہ اضافہ ہوتا ہے نہ کمی ہوتی ہے۔ایسی صفات کو عرضی کہتے ہیں۔پس ایک انسان کا اچھا ہونا یا برا ہونا اس کی عرضی صفات ہیں۔اس کے جسم کا حجم اور اس کی شکل، صورت، اس کی بناوٹ یہ ساری مل کر اس کی ذاتی صفات بن جاتی ہیں۔مگر شکل پھر بھی ذاتی نہیں ہے۔ان معنوں میں کہ شکل بدل بھی جائے تو اس کے تجسم پر کوئی فرق نہیں پڑتا تو وہ تمام چیزیں جو صوتی رنگ رکھتی ہوں یا ایسی صفات ہوں جو کسی چیز میں اضافہ نہ کریں بلکہ کسی چیز کو مختلف شکلوں اور مختلف رنگ میں اس طرح پیش کریں کہ ان کے تشخص میں تبدیلی ہو لیکن ان کی جسامت، حجم اور ان کی اندرونی حالت میں تبدیلی نہ ہو ان کو عرضی صفات کہا جاتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ نور خواہ جسم سے تعلق رکھتا ہو یعنی اس کی بناوٹ میں داخل ہو جو جسم ہے یا ایک عارضی صفت ہے جو آئی اور گزرگئی، ہر دوصورت میں یہ اللہ ہی کا نور ہے خواہ باطنی ہو اور خواہ ذہنی ہو، خواہ خارجی۔پھر فرماتے ہیں اور خواہ ظاہری ہو ، عرضی ہو خواہ ظاہری ہو اور خواہ باطنی ، جو دکھائی دینے والا ہو وہ ہو یا وہ جو خفی ہے مثلاً ایک ہی انسان کی خوبیاں بسا اوقات اس میں مخفی ہوتی ہیں جب تک وہ جلوہ نہ دکھا ئیں اس کی خوبیوں کا پتہ نہیں چلتا اور صورت بالعموم ظاہر وباہر ہوتی ہے اور وہ دکھائی دے دیتی ہے۔اس صورت میں خواہ یہ کیفیت ہو یا دوسری خواہ ذہنی ہو خواہ خارجی، خواہ ذہن کے اندر کوئی نور پیدا ہوا ہے جس کا ظاہر سے تعلق نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی کوئی صفت ذہن پر روشن ہوئی ہے، کوئی عرفان کا نکتہ ہاتھ آیا ہے۔یہ نور کے لمحات ہیں جو ذہن کو میسر آتے ہیں۔ایک ظاہری طور پر خدا کی جلوہ گری کو کسی چیز میں دیکھتا ہے وہ بھی نور ہے۔تو