خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 821 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 821

خطبات طاہر جلد 14 821 خطبہ جمعہ 3 نومبر 1995ء بیچارے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔اپنے اوپر بھی خرچ نہیں کر سکتے ، اپنے بچوں پہ بھی خرچ نہیں کر سکتے۔اپنی خواہشات بھی اس سے پوری نہیں کر سکتے کیونکہ مال کی غلامی کے سوا اور کوئی خواہش باقی نہیں رہتی اور یہ خواہش ہر دوسری خواہش پر غالب آجاتی ہے۔تو یہ اس سفر کی انتہا دکھائی گئی ہے جو مادہ پرستی کا سفر ہے۔جس میں انسان خود اپنی گردن مادے کے نیچے دے دیتا ہے اور وہ پھر اس پر قبضہ کرتا چلا جاتا ہے۔پس یہ کیسی آزادی ہے کہ انسان خودا پنی ملکیت کا غلام ہو جائے۔اس کے برعکس اللہ کی غلامی کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ ہم ایسے شخص کو جو ہمارا غلام ہو جاتا ہے وہ ہمارے رنگ سیکھتا ہے ہم اسے عطا کرتے ہیں وہ آگے عطا کرتا ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ غلام ہو اور آقا کے مزاج کے خلاف مزاج رکھے کیونکہ آقا کے مزاج کے خلاف اگر مزاج ہو بھی تو اس مزاج کو استعمال کرنے کی اسے اجازت ہی نہیں ہوتی۔مملوک کامل تو وہ ہے جو اپنے آقا کے مزاج کے مطابق چلتا ہے۔پس دھن کا بھی ایک مزاج ہے جس کو ایک ہندی مصرعہ کی صورت میں یوں کہا گیا ہے گویا ایک قسم کی ضرب المثل ہے کہ: مایا کو مایا ملے کرکر لانے ہاتھ تلسی داس غریب کی کوئی نہ پوچھے بات یعنی شعر ہے مصرعہ نہیں، کہ دولت کا مزاج تو یہ ہے کہ دولت ملتی ہے اور لمبے لمبے ہاتھ کر کے اسے سمیٹتی چلی جاتی ہے اور یہ مزاج جو ہے وہ غریب سے مستغنی ہو جاتا ہے اسے کچھ بھی پرواہ نہیں رہتی کہ بنی نوع انسان میں سے دوسرے لوگ کس حال میں زندگی بسر کر رہے ہیں کیونکہ دولت کو دولت کی حرص ہوتی ہے یہی جہنم کا مزاج قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اور مادہ پرستی کے اندر یہ بات شامل ہے۔پس فرمایا جن کو ہم رزق دیتے ہیں وہ تو ہمارا مزاج لیتے ہیں یعنی اللہ تو رزق سب کو دیتا ہے مگر یہاں بڑے پیار سے ان بندوں کا ذکر ہے جو خدا کے ہو چکے ہوں جب وہ خدا سے رزق لیتے ہیں تو پھر خدا کی طرح اس مال کو آگے خرچ کرتے ہیں اور خرچ بھی سراً و علانیہ چھپا کے بھی اور ظاہر بھی ، سر او جَهْرًا چھپا کے بھی اور اونچی آواز سے بھی یعنی بتا کے بھی۔اب یہ بھی اللہ کا مزاج ہے اور اللہ کی اکثر عطا میرا ہے اس میں اکثر صفات جو انسان کو دی ہیں یا اپنی ہر مخلوق کو جو عطا کی ہیں وہ بغیر شور کے ہیں ان میں کوئی اظہار نہیں ، نہ ان صفات کے مالک