خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 820
خطبات طاہر جلد 14 820 خطبہ جمعہ 3 /نومبر 1995ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْ كَالًا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ اللہ ایک ایسے غلام کی مثال پیش کرتا ہے جس کے قبضے میں کچھ بھی نہ ہو وَ مَنْ رَّزَقْنَهُ مِنَارِزْقًا حَسَنًا اور ایک ایسے شخص کی مثال جسے ہم نے اپنی جناب سے پاکیزہ رزق عطا کیا ہو فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَ جَهْرًا اور وہ اس میں سے چھپا کے بھی خرچ کرے اور ظاہر کر کے بھی خرچ کرے ھل يَستَونَ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ سب تعریف اللہ کے لئے ہے بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ بلکہ اکثر ان میں ایسے ہیں جو نہیں جانتے۔یہاں جو عَبْدًا مَّمْلُوکا کی مثال ہے اس سے ذہن میں یہ مضمون ابھرتا ہے کہ کوئی ایسا شخص ہو جو بے چارہ غریب ہو، اس کے پلے کچھ نہ ہو، قبضہ قدرت میں کچھ نہ ہو، اس کی مثال کے مقابل پر خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے کی مثال دی گئی ہے۔اگر کوئی ایسا شخص ہے تو وہ تو معذور ہے اس کا تو اختیار ہی کچھ نہیں۔اس کو ایک نیک، صاحب حیثیت کے مقابل پر رکھنا کیا معنی رکھتا ہے اس لئے دراصل عَبْدَ مَمْلُوكًا کے مضمون کو سمجھا نہیں گیا۔عَبدَا مَّمْلُوكًا سے مراد وہ شخص ہے جو مالی لحاظ سے خواہ کیسی ہی کشائش کیوں نہ رکھتا ہو مگر جس مال کا مالک ہے اس کا غلام بھی ہے اور اسی مال کے بندھنوں میں ایسا پھنسا ہوا ہے کہ کلیۂ بے اختیار ہو چکا ہے۔یا جس کی مثال ایسے شخص کی سی ہے جو دنیا کے دام میں پھنس چکا ہے اور اسے کوئی آزادی دنیا سے نصیب ہی نہ ہو کہ کار خیر میں کچھ کوشش کر سکے۔تو عَبْدًا مَّمْلُوكًا کے مقابل پر وہ عباد اللہ ہیں جو خدا کے غلام ہو جاتے ہیں اور ان کو پھر خیر کی آزادیاں نصیب ہوتی ہیں۔پس یہ دو قسم کے غلام ہیں جن کا موازنہ قرآن کریم فرماتا ہے یہاں اختصار کے ساتھ ، بعض دوسری جگہوں پر تفصیل کے ساتھ۔پس دو میں سے ایک غلامی تو تمہیں بہر حال اختیار کرنی ہوگی۔ایک غلامی وہ ہے جو شیطان کی یادنیا کی لالچ کی اور دنیا کے اموال کی غلامی ہے۔اس غلامی میں تم ہر خیر کے فعل سے عاجز آ جاؤ گے۔کسی نیک کام کی توفیق نہیں ملے گی اور دن بدن زیادہ سخت بندھنوں میں تم بے بس اور مقید ہوتے چلے جاؤ گے اور یہ وہ سلسلہ ہے جس کے متعلق پھر عَبْدًا مَّمْلُوکا کی وہ مثال صادق آتی ہے کہ لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ اس کو کچھ بھی اختیار نہیں، کچھ بھی نہیں کر سکتا۔اب وہ لوگ جو بے حد امیر ہوں مگر جتنے امیر ہوں اتنا ہی اپنے اموال کے خود غلام بن چکے ہوں، وہ