خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 811 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 811

خطبات طاہر جلد 14 811 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 1995ء اللہ تعالیٰ ہے۔ہر قسم کی حرکت، ہر قسم کا تموج خدا کی ذات کے ارادے سے پیدا ہوتا ہے۔جس طرح آپ کا اردہ آپ کے بدن کو جنبش دیتا ہے، آپ کے گلے کی صوتی تاروں کو جنبش دیتا ہے اور وہی ارادہ ہے جو جنبشیں بن بن کر دوسرے انسانوں کے ذہن میں منتقل ہوتا ہے اور وہاں پہنچ کر ظاہری جنبش میں دکھائی نہیں دیتا کچھ اور قسم کی چیز ہو جاتی ہے ، لطیف تر ہو جاتا ہے۔تو لطافت سے آغاز ہوا، لطافت تک پہنچا اور اس کے بغیر ایک جگہ کی کیفیت کو دوسری جگہ منتقل کرنا ناممکن ہے۔جس لطافت سے کسی چیز کا آغاز ہوا ہے جب تک دوبارہ اس لطافت میں اس کو تبدیل نہ کریں اس کا دوسری جگہ انتقال ممکن نہیں ہے یعنی معنی خیز نہیں رہتا، ایک بے معنی انتقال ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ اول ہے جس کا ارادہ، جس کی قوت فیصلہ، جس کی چاہت یا جس کی ناپسندیدگی جو بھی شکلیں اختیار کرتی ہے وہ ساری کائنات ہے۔تمام کائنات اس ابتدائی تموج سے پیدا ہوتی ہے جس کو تموج کہنا بھی ایک انسانی کلام کی مجبوری ہے۔جس طرح ہمارے ہاں دکھائی دینے والا تموج محسوس ہونے والا تموج خواہ وہ آواز سے تعلق رکھتا ہو یا روشنی سے تعلق رکھتا ہو، جب تک ظاہر ہے اس وقت تک کسی نہ کسی صورت میں لطیف ہونے کے باوجود اسے تموج کہا جا سکتا ہے لیکن وہ جگہ جہاں سے تموج شروع ہوا، جہاں پہنچ کر دوبارہ اپنی اصلیت کی طرف لوٹتا ہے وہاں کم سے کم لطیف ترین تموج ہے۔اتنا ہلکا کہ ظاہری تموج کو اس تموج سے کوئی نسبت ہی دکھائی نہیں دیتی۔آپ کی آواز سے پہلے جو آپ کا خیال تھا اگر تموج نہ ہو تو خیال پیدا نہیں ہو سکتا لیکن اتنا خاموش کہ آپ زندگی بھر جو چاہیں سوچتے رہیں ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی کو آواز سنائی نہیں دے گی۔لیکن جب وہ تموج آواز میں ڈھلتا ہے تو کہیں ہلکی نحیف آوازوں میں بھی ڈھلتا ہے، کہیں پر شوکت اور بلند آوازوں میں ڈھل جاتا ہے۔اب اذانیں بھی آپ نے مختلف سنی ہیں ہمارے مبارک ظفر صاحب ناروے میں اذان دیا کرتے تھے تو لگتا تھا تکبیر کہہ رہے ہیں اور تکبیر غور سے سنی پڑتی تھی۔اب چوہدری آفتاب صاحب ہیں یہ تکبیر کہیں تو لگتا ہے اذان دے رہے ہیں لیکن دونوں کے ذہن میں تموج کی قوتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ویسا ہی تموج ہے اور کوئی آواز کسی کی سنائی نہیں دیتی۔تو ذات باری تعالیٰ کا نور ہونا یہ معنے رکھتا ہے کہ تمام کائنات اس کے ارادے، اس کے فکر سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے بغیر کا ئنات میں کسی چیز کا ہونا ناممکن ہے، ہو ہی نہیں سکتی۔