خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 810
خطبات طاہر جلد 14 810 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 1995ء بنی ہے اب کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں۔(مسلم) اس حدیث نے ایک اور مضمون سے بھی پردہ اٹھایا ہے کہ اللہ کا نور آنحضرت مے کے عرفان کے مطابق ظاہری نور نہیں تھا اور نہ ظاہری نور کو تو ہر ایک شخص دیکھ سکتا ہے۔ظاہری نور ہی کے صلى الله ذریعے دیکھتے ہیں ، ظاہری نور ہی کو دیکھتے ہیں۔چاند سورج کو دیکھتے ہیں مگر حضرت رسول اللہ ہے ان کے نور کو خدا کا نور ان معنوں میں قرار نہیں دے رہے کہ گویا اس نور کو دیکھنا خدا کا دیکھنا ہے۔اللہ کا نور اس نوعیت کا ہے جس کے متعلق رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ انسان اس کو دیکھ نہیں سکتا۔پھر یہ نور کیا ہے جو ہمیں دکھائی دیتا ہے؟ اس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ ایک دوسری حدیث میں یہ ذکر موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نور، خدا تعالیٰ کا حجاب ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کا پردہ ہے یعنی جن کے پیچھے اللہ چھپا ہوا ہے۔جو تمہیں ظاہری روشنی سورج کی دکھائی دیتی ہے تم اس کو نور سمجھ رہے ہو، یہ حجاب ہے جو صفات باری تعالیٰ پر ہے اور خدا اس سے پرے ہے اور خود یہ نور نہیں ہے۔یہ وہ ابتدائی باتیں ہیں نور سے متعلق جن کو آپ کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض حوالے آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو اس مضمون کو مزید آپ پر کھولتے چلے جائیں گے۔آپ فرماتے ہیں: قرآن شریف میں تمام صفات کا موصوف صرف اللہ کے اسم کو ہی ٹھہرایا ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اللہ کا اسم تب متحقق ہوتا ہے جب تمام صفات کا ملہ اس میں پائی جائیں۔پس جبکہ ہر ایک قسم کی خوبی اس میں پائی گئی تو حسن اس کا ظاہر ہے۔اسی حسن کے لحاظ سے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ کا نام نور ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا نور ہے۔ہر ایک نور اسی کے نور کا پر تو ہے“۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ: 247) یعنی اپنی ذات میں وہ خدا کا نور ہے۔خدا کا ایک عکس ہے جو اس پردے پر ظاہر ہوتا ہے۔اور وہ عکس اس طرح کا بھی نہیں جیسے مادی عکس ہو یعنی مراد اس کی یہ ہے۔توانائی کا مضمون آپ کو سمجھانے کا مقصد یہ تھا تا کہ ان لطیف باتوں کو آسانی سے سمجھ سکیں۔توانائی کا آخری منبع اور اول منبع