خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 809 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 809

خطبات طاہر جلد 14 809 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 1995ء ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عارفانہ تفاسیر میں دکھائی دیتی ہیں۔میں اس عمومی تمہید کے بعد پھر ایک ایک چیز لے کر آپ کے سامنے کھولوں گا۔سب سے پہلی بات یہ ہے جو اللہ کے نور کی اصل ماہیت ہے اس کی کسی کو کوئی خبر نہیں اور اس کی صرف مثالیں ہی ہیں جو بیان ہوسکتی ہیں۔بعض احادیث سے یہ شک پڑتا ہے کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو اللہ کے نور کی ماہیت کا دیدار ہوا ہے مگر بعض دوسری احادیث نے اس پر مزید روشنی ڈال کر اس شک کا خود ازالہ فرما دیا ہے۔میں ایسی ہی پہلی نوعیت کی ایک حدیث صحیح مسلم کتاب الایمان سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔صلى الله حضرت عبداللہ بن شقیق جو تابعی تھے ، بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اگر میں نے آنحضرت ﷺ کو دیکھا ہوتا تو میں آپ سے ایک سوال ضرور کرتا۔حضرت ابو ذر غفاری نے فرمایا کہ بتاؤ تو سہی وہ کیا سوال تھا جو تم کرتے اگر تم نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہوتا۔تو اس نے کہا میں رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کرتا اگر میں نے ان کو دیکھا ہوتا کہ کیا آپ نے خدا کو دیکھا ہے؟ اور دیکھنے کا تعلق اس رنگ میں رسول اللہ ﷺ کے وسیلے سے خدا تک پہنچا دیا۔ابوذرغفاری نے کہا کہ تمہارے نہ دیکھنے کا کوئی فرق نہیں پڑا۔میں نے دیکھا ہے اور میں صلى الله نے خود یہ سوال کیا تھا اور جب میں نے سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے جواب دیار ایـت نـوراً میں نے ایک نور دیکھا ہے یعنی ایک قسم کا نور دیکھا ہے۔(مسلم) کیا مراد ی تھی کہ میں نے اللہ کا نور اس کی ماہیت کے لحاظ سے دیکھا ہے؟ یہ ایک انسان کے ذہن میں خیال ابھر سکتا ہے۔اس کا جواب بخاری کی حدیث میں حضرت ابوذر سے ہی مروی ہے۔دوسری حدیث بھی مسلم ہی کی ہے بخاری کی نہیں۔حضرت امام مسلم نے ایک باب میں دو حدیثیں باندھی ہیں، میرے ذہن پہ یہ تاثر تھا کہ وہ بخاری کی حدیث ہے جب میں نے چیک کیا ہے تو بخاری کی نہیں وہ مسلم ہی کی دوسری حدیث ہے۔ایک حدیث میں حضرت ابو ذرغفاری سے یہ روایت ہے کہ آنحضرت مہ نے جواب دیا میں نے ایک نور دیکھا ہے۔دوسری حدیث میں یہ روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے جب پوچھا کہ آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے، آپ نے فرمایا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں۔قال هو نورانی اراہ تو نوراً جو لفظ تھاوہ دراصل نور تھا جو فرمایا اور انسی کا جو حصہ ہے وہ ایک راوی بھول گیا اور دوسرے راوی نے اس کو مکمل کر دیا۔یہ پوری شکل