خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 804
خطبات طاہر جلد 14 804 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 1995ء بن جاتا ہے اور کوئی توانائی بھی تموج کے بغیر متصور نہیں ہوسکتی۔ہر توانائی میں ایک تموج پایا جاتا ہے۔یعنی زیر و بم ، حرکت ، ایک اندرونی حرکت جو بیرونی طور پر بعض انسانی حسی قوتوں سے مشاہدہ کی جا سکتی ہے۔مثلاً آگ ہے یہ ایک توانائی ہے۔اس کے اندر بھی تموج ہے لیکن وہ تموج بسا اوقات نظر نہیں بھی آتا۔جب آپ اس کو ہاتھ لگاتے ہیں تو تب محسوس ہوتا ہے کہ اس میں گرمی ہے۔پس آگ نہ نظر آنے والی توانائی بھی رکھتی ہے اور نظر آنے والی توانائی بھی رکھتی ہے لیکن جو نظر آنے والی توانائی ہے اس کا نور سے تعلق ہے نار سے تعلق نہیں۔اس کا روشنی سے تعلق ہے، اس کا گرمی سے تعلق نہیں ہے۔پس توانائیوں میں مختلف قسم کی توانائیاں اس طرح داخل ہو جاتی ہیں کہ تموج کی شکلیں بدل جاتی ہیں۔لہریں تموج ہی کو کہتے ہیں۔تموج ہی کا ایک اظہار ہے لہر اور جتنی بھی توانائیاں ہم دیکھتے ، سنتے یا محسوس کرتے ہیں ان کا لہروں سے تعلق ہے۔پس مادہ دکھائی دیتے ہوئے بھی ان کا کنہہ مادہ نہیں ہے بلکہ مادے سے وراء الوراء کچھ اور ایسا اول محرک ہے جس نے ان کو حرکت دی اور حرکت دے کر جب اس حرکت نے ایک جگہ اجتماع کر لیا اور یہ حرکت ایک منجمد صورت میں تبدیل ہو گئی تو اسے ہم مادہ کہتے ہیں۔پس توانائی بھی مادے کی شکل ہے اور مادہ بھی توانائی ہی کی ایک شکل ہے۔اب یہ مضمون سائنس کے لحاظ سے بہت وسعت رکھتا ہے اور بہت گہرا اور باریک ہوتا چلا جاتا ہے مگر میں یہاں اس سے آگے نہیں بڑھتا بلکہ اس دائرے میں رہتے ہوئے اسے مزید کھولنے کی کوشش کرتا ہوں۔اب جو آواز میری آپ سن رہے ہیں یہ اس لئے سن رہے ہیں کہ اس آواز کو ایک تموج نے پیدا کیا ہے۔وہ تموج میرے گلے کے ان دھاگوں سے پیدا ہوا، ریشوں سے پیدا ہوا جو اللہ تعالیٰ نے آواز پیدا کرنے کی خاطر بنائے ہیں۔اور ہونٹوں سے اور زبان سے اور گلے کے سوراخ سے جس کے ملنے اور الگ ہونے سے کچھ تموج پیدا ہوتے ہیں۔ان سب تموجات کو ہم کانوں کے ذریعے سنتے ہیں اور کانوں کے اندر پر دے ہیں جو بعینہ اسی طرح، اسی زیر و بم کے ساتھ متحرک ہو جاتے ہیں جو زیرو بم آپ کے بولتے وقت آپ کے گلے میں پیدا ہو رہا ہے یا ہونٹوں میں پیدا ہو رہا ہے یا زبان کے منہ کے اندر مختلف حصوں کے ملنے اور الگ ہونے سے پیدا ہو رہا ہے، گلے کے سوراخ کے تنگ ہونے اور کھلنے سے پیدا ہو رہا ہے۔یہ سب تموجات ہیں جو آپ کے ذہن تک پہنچتے ہیں لیکن براہ