خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 803
خطبات طاہر جلد 14 803 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 1995ء کریں۔اس غرض سے میں نے اس آیت کی دوبارہ تلاوت کی ہے جس کے بعض پہلوؤں پر میں پہلے بات کر چکا ہوں۔اب کچھ ایسے پہلو ہیں جو نور کی ماہیت سے تعلق رکھتے ہیں اس کی ماہیت کو ہم صرف اسی حد تک سمجھ سکتے ہیں جس حد تک قرآن کریم نے یا حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سمجھایا ہے یا ان دونوں سے اخذ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نہایت ہی تفصیل سے عارفانہ مطالب بیان فرمائے ہیں۔- سب سے پہلے تو عموما نور کی بات ہے، نور کیا چیز ہے؟ نور کے متعلق عموماً تصور یہ ہے کہ جس کو ہم روشنی کہتے ہیں وہی نور ہے اور سورج کی روشنی ہو یا چراغ کی روشنی ہو یا کوئی ایسی چیز جو چمک رہی ہو جیسے جگنو چمکتا ہے یہ سب روشنیاں نور ہیں۔یہ درست ہے کہ نور کے ایک معنی کے تابع یہ ساری روشنیاں آتی ہیں مگر جب اللہ کے نور کی بات ہو تو اس کو ان روشنیوں کے حوالے سے سمجھانا ناممکن ہو جاتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے نور کی مثال کے وقت کسی ظاہری نور کی بات نہیں فرمائی بلکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی مثال دی ہے۔جس سے پتا چلتا ہے کہ نورالہی کی کہہ میں فی ذاتہ چمکنا ں ہے۔چمکنے والا نور اور ہے جو آنکھ دیکھ سکتی ہے۔کچھ نور ہے جو باطن میں ہے جو ہر چیز کی اصلی وجہ ہے، جس سے ہر چیز پیدا ہوتی ہے اور وہ نور ہے جو انسان اپنی عام آنکھ سے دیکھ ہی نہیں سکتا اور اصل وہ نور ہے اور جس سے دوسرے سب نور ایک ظاہر میں دکھائی دینے والی کچھ حقیقتیں ہیں۔ان کا کیا تعلق ہے اللہ کے نور سے اور اللہ نے اپنے نور کی مثال کے وقت چاند سورج کا ذکر کیوں نہ فرمایا بلکہ صرف حضرت محمد مصطفی عملہ کا ذکر فرمایا اور ایک ایسے انداز میں جس سے نور کی وہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے جس حقیقت کا انسان کے ارتقاء سے تعلق ہے، جس حقیقت کا انسان کے اس ارتقاء سے تعلق ہے جو اسے خدا تعالیٰ کی طرف رفعتوں میں لے جاتا ہے۔پس یہ وہ پہلو ہے جس کو میں اپنی استطاعت اور طاقت کے مطابق آج کھولنے کی کوشش کروں گا اور اگر آج جیسا کہ نظر آ رہا ہے کہ وقت کافی نہیں ہوگا تو پھر آئندہ ایک دو خطبات میں بھی یہی مضمون چلے گا۔سب سے پہلے لفظ نور کے متعلق عمومی بات میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ نور دراصل اپنی ذات میں ایک ارتعاش کا نام ہے اس سے زیادہ یہ کچھ نہیں ہے اور جتنی بھی تو انا ئیاں ہیں وہ ارتعاش ہی ہیں۔ارتعاش کا مطلب ہے تموج ، حرکت اور تموج اگر کسی چیز میں پیدا ہوتو وہ ایک توانائی کا مظہر