خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 802 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 802

خطبات طاہر جلد 14 802 خطبہ جمعہ 27 اکتوبر 1995ء مضمون کو میں نے دوبارہ لیا ہے۔چند دن ہوئے ایک خط کے ذریعے مجھ سے یہ بڑے زور سے توقع رکھی گئی کہ وہ جو صفات باری تعالیٰ اور اسماء باری تعالیٰ کا سلسلہ تھا اسے پھر کبھی کبھی لے لیا کروں، دوبارہ اس پر خطبات شروع کر دیا کروں کیونکہ لکھنے والے نے لکھا کہ کئی پہلو سے نہ صرف عقلی اور قلبی لحاظ سے یہ سلسلہ مفید ہے بلکہ روحانی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ہم اسماء باری تعالیٰ کے مضمون پر بار بار گفتگو کرتے رہیں اور غور کرتے رہیں۔دلیل بڑی قطعی اور مضبوط ہے لیکن میں نے شروع ہی میں عرض کیا تھا کہ یہ تو ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو پھر کبھی ختم نہیں ہوسکتا لیکن دوسری باتیں جو بیچ میں ضرور پیش آتی رہتی ہیں ان کا بیان بھی ضروری ہے۔ہر چند کہ ذکر الہی کا مضمون غالب اور افضل ہے مگر فی الحقیقت جو دوسری باتیں بھی خطبات میں پیش ہوتی ہیں وہ ذکر الہی کے تابع ہیں، ذکر الہی کی تیاری کے سلسلے میں ہیں۔اگر وہ تربیتی اور اصلاحی امور جماعت پر نہ کھولے جائیں تو وہ ذکر الہی کے مضمون کو قبول کرنے ، سمجھنے اور اپنی ذات میں جاری کرنے کے اہل ہی نہیں ہو سکتے۔پس یہ تفریق درست نہیں ہے کہ گویا کچھ خطبات تو ذکر الہی پر چلتے ہیں۔بعض ظاہری طور پر ایسے تعلق ہیں جو ظاہری طور پر دکھائی دے جاتے ہیں۔بعض ایسے تعلق ہیں جب گہری نظر سے دیکھیں تو وہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ ذکر الہی کا مضمون زندگی کے ہر شعبے بلکہ وجود کے ہر شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔انہوں نے اپنے خط میں خصوصیت سے لفظ نور پر روشنی ڈالنے یعنی الفاظ تو یہ استعمال کئے مگر حقیقت یہ ہے کہ کہنا وہ یہ چاہتے تھے کہ لفظ نور سے روشنی حاصل کر کے ہمیں بھی وہ روشنی دکھا ئیں جس کا تعلق خدا تعالیٰ کے اسم نور سے ہے اور یہ چونکہ ایک مرکزی اسم ہے، اللہ کے بعد وہ اسم جو تمام صفات باری تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے وہ نور ہے اور حقیقت میں ایک رنگ میں اللہ کا متبادل دکھائی دیتا ہے۔اس پہلو سے میں پہلے بھی گفتگویا آپ کو اس مضمون کو سمجھانے کی بات کا سوچ چکا ہوں لیکن مشکل یہ در پیش تھی کہ یہ مضمون بہت مشکل ہے۔بہت دقیق ہے، بہت باریک بھی ہے، وسیع بھی ہے اور ایک دفعہ اس مضمون کو شروع کیا جائے تو جماعت کے ہر طبقہ علم کو، ہر ذہنی درجے کو ٹلو ظ ر کھتے ہوئے اسے سمجھا دینا ایک مشکل کام ہے۔اس لئے اس بات کا حوصلہ نہیں پڑا کہ اس مضمون کو اٹھاؤں لیکن انہوں نے اب واضح طور پر مطالبہ یہ کیا ہے کہ اس سلسلے کو دوبارہ شروع کرنا ہے تو اسم نور سے شروع