خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 798
خطبات طاہر جلد 14 798 خطبہ جمعہ 20 اکتوبر 1995ء در حقیقت استواء علی العرش کے یہی معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی یہ صفات جب دنیا کو پیدا کر کے ظہور میں آگئیں تو اللہ تعالیٰ ان معنوں سے اپنے عرش پر پوری وضع استقامت سے بیٹھ گیا کہ کوئی صفت صفات لازمہ الوہیت سے باہر نہیں رہی اور تمام صفات کی پورے طور پر تجلی ہوگئی جیسا کہ جب اپنے تخت پر بادشاہ بیٹھتا ہے تو تخت نشینی کے وقت اس کی ساری شوکت ظاہر ہوتی ہے۔“ (نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 457-455- حاشیہ ) پس اس تخت کا ایک اور معنی بھی بیان فرما دیا۔پس یہ خیال کرنا کہ ایک جگہ فلاں معنی کیا گیا ہے، دوسری جگہ فلاں معنی کیا گیا، یہ جہالت ہے۔خدا تعالیٰ کے کلام میں بہت سے بطون ہیں اور اس کی صفات کو الٹ پلٹ کے دیکھیں تو نئے جلوے اس میں دکھائی دیتے ہیں۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شان ( الرحمان : 30) کا یہی مطلب ہے۔صفات اگر ننانوے ہیں جو ہمیں بتائی گئی ہیں تو ہر یوم جو بے شمار زمانوں پر اطلاق پاتا ہے۔اس میں نئی جلوہ گری کیسے ہوسکتی ہے اگر صفات نوع بہ نوع جلوے نہ دکھا ئیں اور اس پہلو سے عرش الہی جو صفات کا نام ہے اس کے بھی مختلف جلوے ہیں۔پس ایسی بحثوں میں نہ پڑو جو تمہاری استطاعت اور سمجھ سے باہر کی بات ہے۔وہاں تو فرشتوں کے بھی پر جل گئے۔الله محمد رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے ہم اس عرش کی باتیں سنتے اور سمجھتے ہیں جن کی رویت صرف ایک انسان کامل کو ہوئی یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اور اس رویت کو اس نے اس طرح دیکھا جس نے اپنی آنکھیں چھوڑ دیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں اختیار کر لیں۔اپنا دماغ ترک کر دیا اورمحمد رسول اللہ کے دماغ میں مدغم ہو گیا۔اپنے نفس کے، اپنے ورد، ذکر، اپنے دل کے ہر تقاضے کو قربان کر دیا اور محمد رسول اللہ ﷺ آپ کے دل پر اس طرح مستوی ہوئے جس طرح اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کے دل پر مستوی تھا۔پس آپ کی آنکھوں سے، آپ کے دل سے، آپ کی کیفیات سے آپ نے خدا کو دیکھا اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں، یہ آپ کا مرتبہ اور مقام ہے۔اس کو سمجھتے ہوئے ہمیں بھی انہی راہوں پر قدم آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن توفیق خدا سے ہی مانگنی ہوگی۔اس کی توفیق کے بغیر ایک قدم اٹھانا بھی اس راہ میں ممکن نہیں۔