خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 3

خطبات طاہر جلد 14 3 خطبہ جمعہ 6 جنوری 1995ء ہو جائے۔وہی اولاد تمہاری اولاد ہے جو تمہارے بعد آنے والے کل میں تمہارے لئے سر بلندی کا موجب بنے تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک کا موجب ہو تمہارے لئے دعاؤں کا موجب بنے، تمہارے درجات کی بلندی کا موجب بنے اور یہ چیزیں آزمائش کے بغیر حاصل نہیں ہوتیں۔تو فتنہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ساری اولا دفتنہ ہی ہوتی ہے۔یہ تو بڑا سخت ایک نا پسندیدگی کا کلمہ ہے جو ہمارے ہاں اگر استعمال کیا جائے تو لوگ ناراض ہو جائیں گے کہ تمہاری اولاد ہے کہ فتنہ ہے تو ان معنوں میں مراد نہیں ہے۔مال بھی فتنہ ہے اولاد بھی فتنہ ہے یعنی آزمائش کا ایک ذریعہ ہے اور اس فتنے سے اللہ کے فضل بھی حاصل ہو سکتے ہیں اور اس فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا کھوئی بھی جاسکتی ہے تو فتنے میں دونوں پہلو ہوتے ہیں۔فتنے پر پورا اترنے والا بہت زیادہ فضلوں کا وارث بن جاتا ہے۔ہار جانے والا جو ہاتھ میں ہوتا ہے اس کو بھی کھو دیتا ہے۔پھر فرمایا وَ اللهُ عِنْدَةَ أَجْرٌ عَظِيم اور اللہ وہ ہے جس کے پاس بہت بڑا اجر ہے یعنی ان دونوں کو اگر خدا کی راہ میں خرچ کرو گے اولاد کو بھی اور اموال کو بھی تو یا درکھو کہ اجر خدا کے ہاتھ میں ہے اور عظیم اجر ہے۔اس کی وسعت اس دنیا پر بھی حاوی ہے اور اس دنیا پر بھی حاوی ہے۔عظیم کا ایک تو معنی ہے زیادہ اور ایک عظمت اس چیز کو کہتے ہیں جس کے دائرہ سے کوئی چیز بھی باہر نہ رہے ، وسیع ، تو ہو جائے ، ہر چیز پر اس کا اثر وسیع ہو جائے۔تو اس پہلو سے اَجْر عَظِیم کا میں یہ ترجمہ کر رہا ہوں کہ بہت بڑا اجر اور ایسا اجر جو دنیا پر بھی اپنی رحمت کا سایہ کئے ہوئے ہے اور آخرت پر بھی اپنی رحمت کا سایہ کئے ہوئے ہے۔فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُم پہلے بھی میں نے اس کا ذکر کیا تھا یہاں یہ نہیں فرمایا کہ انفقوافی سبیل الله ما استطعتم یہ فرمایا ہے فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُم اور مضمون ہے خرچ کا۔یعنی یہ حکمت واضح فرمائی جارہی ہے کہ تمہارے خرچ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اس خرج میں دیپی ہے جو تقویٰ کی استطاعت بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جائے گا۔اس خرچ میں دلچسپی ہے جو اللہ کے تقویٰ کی خاطر، اس کی رضا کی خاطر تم پیش کرو گے ورنہ محض مال میں تو کوئی دلچسپی نہیں ہے اللہ کو، کیونکہ وہ سارا مال اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔وہی عطا کرتا ہے اسی نے سارا نظام اقتصادیات بنایا اور اسی کے قوانین کے تابع یہ جاری ہے جس کو چاہے عطا فرمائے ، جس سے چاہے چھین لے اس