خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 777 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 777

خطبات طاہر جلد 14 777 خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 1995ء کے باوجود اپنی لطافت کی وجہ سے وہ اس جگہ کو بھر سکتی ہیں جو پہلے ہی بھری ہوئی دکھائی دے رہی ہے اور اس سے بے تعلق بھی ہوں گی۔چنانچہ ایک بوتل جو پانی سے بھری ہوئی ہو اس میں اتنی قسم کی ریڈیائی لہریں اور ایکسرے لہریں اور کئی قسم کی اور لہریں اور مائیکرو ویوز اور دوسری موجود ہیں کہ ان کا شمار آپ نہیں کر سکتے۔ان میں سے ہر ایک، ایک پیغام رکھتی ہے ایک تصویر رکھتی ہے، ایک آواز رکھتی ہے، ایک اپنا انداز رکھتی ہے۔تو یہ جو مضمون تھا یہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کوسمجھایا۔پس اس مضمون کے پیش نظر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ کلام آپ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔فرماتے ہیں یہ Dimensions کی بات ہے۔یہاں یہ کہہ رہے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہ اللہ وہاں ہونے کے باوجود وہاں نہیں ہے کیونکہ اپنی تنبیہی صفات میں وہاں ہے اور تنزیہی مضمون کو سمجھنا ہو تو قرآن کریم کی وہ آیات دیکھیں جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ قریب ہے، قریب تر ہے شہہ رگ سے۔زندگی کی رگ سے بھی قریب تر ہے اور بعید تر ہے اس سے زیادہ لطیف کوئی چیز نہیں اس سے زیادہ حاضر کوئی چیز نہیں وہ ظاہر بھی ہے باطن بھی ہے، وہ حاضر بھی ہے غیب بھی پھر ہے تو یہ متضاد با تیں Dimensions کے بدلنے کے نتیجے میں ہی صحیح ہو سکتی ہیں ورنہ نہیں۔پس ہر جگہ ہو اور اندھوں اور بدنصیبوں سے دور تر بھی ہو اور ان باتوں کو اس طرح آپ سمجھیں تو پھر یہ عرش الہی کا مضمون سمجھ آئے گا۔عرش الہی کا ایک مفہوم یہ بنتا ہے کہ وہ خدا جس کی تنزیہی صفات تخلیق کی پہنچ سے بالا تر ہیں، ایسی بالا ہیں کہ مخلوق کو جو بلند ترین مقام نصیب ہو سکتا تھا وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو نصیب ہوا اور آپ بھی اس مقام پر جا کر رک گئے جس کے بعد محض خدا کا مقام رہ جاتا یہ اور تشبیہی صفات کو اجازت ہی نہیں ہے، توفیق ہی نہیں ہے کہ وہ تنزیہی صفات کا کچھ پاسکیں۔پس ایک تو عرش کی جلوہ گری یہ ہے۔دوسری بالکل واضح اور کھلی کھلی بات ہے کہ خدا کوئی جسم تو ہے نہیں جو پانی کے اوپر بیٹھا ہو۔ہاں پانی سے جو زندگی پیدا ہوئی اس کو یہ توفیق ملی ہے کہ خدا کا تصور باندھ سکے ورنہ گندگی کے کیڑے کو خدا کا تصور کیا ہوسکتا ہے۔اگر کوئی ہے تو بہت ہی مبہم اور مخفی اور بالکل ہی معمولی، اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں مگر اس پانی سے جو وجود زندہ ہوا ہے جو سب سے اعلیٰ اور سب سے فائق اور سب سے اعلیٰ اور