خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 72 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 72

خطبات طاہر جلد 14 72 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء بعد تو پھر اور کوئی جز آباقی نہیں رہتی ، اس کی اہمیت کوئی نہیں رہتی۔کہتے ہیں:۔سب کچھ خدا سے مانگ لیا اس کو مانگ کر اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد یہ شعر پوری طرح مجھے یاد نہیں بیچ میں میں نے وزن پورا کر لیا ہے مگر مضمون یہی ہے ( یا اس سے ملتا جلتا ہے ) اور بڑی قوت والا مضمون ہے کہ خدا سے خدا ما نگ کر ہم نے سب کچھ ہی مانگ لیا ہے۔اس کے بعد کسی اور دعا کے لئے ہاتھ نہیں اٹھتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے اس طرح ایک نسبتا سطحی رنگ میں پیش نہیں فرمایا مثلاً یہ اس کا سطحی پہلو ہے کہ اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد “ کون ہے جو خدا سے خدا کو مانگ کر یہ ضمانت بھی اپنے اندر رکھتا ہو، اپنے ساتھ رکھتا ہو کہ وہ خدا کے ساتھ وفا کے تقاضے پورے کرے گا اور آئندہ اسے خدا سے مانگنے کی احتیاج نہیں رہی۔تو شعر دیکھنے میں بڑے اچھے لگا کرتے ہیں مگر جب آپ ڈوب کر دیکھتے ہیں اچھی باتوں میں تو پھر پتا چلتا ہے کہ کون سی باتیں گہری صداقت پر مبنی ہیں اور ان کا چہرہ بھی حسین ہے ان کا باطن بھی حسین ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہر بات یہ دونوں پہلو رکھتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اشعار میں بھی اور آپ کی نثر میں بھی یہی پہلو سب سے نمایاں ہے جس کی وجہ سے آپ کی تحریر اور نظم میں ایک غیر معمولی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔آپ فرماتے ہیں: عالم مرا عزیز توئی در رو وانچه میخواهم از تو، نیز توئی کہ میرا تو دونوں جہان میں تو ہی عزیز ہے۔وہ جو میں تجھ سے مانگتا ہوں وہ تو ہے۔تجھے ، تجھ سے مانگ رہا ہوں اور یہ دعا ساری عمر کا ساتھ تھی۔ایسی دعا نہیں تھی کہ جس کے لئے ہاتھ اٹھیں اور پھر گر جائیں تو پھر کبھی نہ اٹھیں۔ایسی دعا آپ نے مانگی کہ آخر وقت تک آپ کی یہی دعا جاری رہی جبکہ خدامل بھی چکا تھا، ساتھ رہتا تھا، بعض دفعہ ساری ساری رات آپ کو خوشخبریاں دیتا تھا مگر یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کبھی ساقط نہیں ہوئی۔تو اس رمضان میں بھی یہ دعا مانگیں اور اس رمضان کے بعد بھی یہ دعامانگتے چلے جائیں کہ اے خدا! اس نیکی کے بدلے ہمیں تو مل جائے اور یہ