خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 763 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 763

خطبات طاہر جلد 14 763 خطبہ جمعہ 13 اکتوبر 1995ء ان کی احادیث کے مجموعے پر نظر ڈالنے سے، ایک دفعہ نظر ڈالنے سے ہی اٹھ جاتا ہے کیونکہ ایسے ایسے لغو جنوں بھوتوں اور پریوں کے قصے، ایسی متضاد باتیں جو تاریخ سے متصادم، عقل سے متصادم اور اتنے واضح اپنے اندر تضاد رکھتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے کے ایسے واقعات جو مثلاً حضرت یحیی کے زمانے سے بھی چار، پانچ سو سال پہلے کے واقعات گزرے ہیں ان کو حضرت بی کے زمانے میں دکھارہے ہیں۔غرضیکہ ایسے کھلے واضح تضادات ہیں کہ ایک محقق کا فرض تھا کہ دیکھتے ہی ایسی تمام حدیثوں کو اندرونی تضادات کی رو سے ہی رد کر دیتا مگر اکثر ان بحثوں میں پڑے ہوئے ہیں کہ مرفوع ہے کہ نہیں۔اب جو مصنوعی حدیثیں بناتا ہے وہ اس کو رسول اللہ ﷺ تک پہنچانے میں بھی تو ملکہ رکھتا ہوگا ، اس کو مرفوع کر دینا تو اس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں لیکن محض اصطلاح مرفوع ایسی ہاتھ لگ گئی ہے کہ ان لغویات پر اعتماد شروع کر دیا جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی طرف منسوب کرنا آپ کی گستاخی ہے۔قطعی طور پر وہ محمد رسول اللہ ہے جو قرآن سے جلوہ گر ہوتے ہیں، قرآن سے اٹھتے ہیں ان کی طرف وہ حدیثیں منسوب ہو ہی نہیں سکتیں۔میں چند مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں عرش کے تعلق میں۔در منتثور میں حضرت مکحول۔رضی اللہ لکھا ہوا ہے لیکن تابعی ہیں۔حضرت مکحول تابعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عرش کو اٹھانے والے چار فرشتے ہیں۔ایک فرشتہ صورتوں کی سردار صورت پر ہے یعنی انسان کی صورت پر اور ایک فرشتہ درندوں کے سردار شیر کی صورت پر ہے اور ایک فرشتہ چار پائیوں کے سردار بیل کی صورت میں ہے اور وہ یوم العجل یعنی بچھڑے کے معبود بنائے جانے کے دن سے اس وقت تک سخت غصے کی حالت میں ہے کہ میں بیلوں میں ہوں اور ایک بچھڑے کو معبود بنالیا گیا ہے، اس لئے میری سخت بے عزتی ہوئی ہے اور اس وقت سے اس کا غصہ اتر ہی نہیں رہا اس فرشتے کا اور ایک فرشتہ پرندوں کے سردار باز کی شکل میں ہے۔(ابوالشیخ بحوالہ در منثور للسیوطی ،سورہ المومن زیر آیت نمبر 8) اب جس نے بھی دیو مالائی کہانیاں پڑھی ہوئی ہیں وہ فورا سمجھ سکتا ہے کہ یہ نعوذ باللہ من ذالک رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہو ہی نہیں سکتی۔دیو مالائی کہانیوں کی پیداوار اس سے زیادہ اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں۔مگر محدثین نے بے چاروں نے یہ بخشیں اٹھائی ہیں کہ یہ صحابی پر جا کے کھڑی