خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 762
خطبات طاہر جلد 14 762 خطبه جمعه 13 اکتوبر 1995ء حدیثوں کی وجہ سے راہ پا گیا جو بہت بعد کے زمانہ میں اکٹھی ہوئیں اور ادنیٰ سے غور سے بھی پتا چل صلى الله ہر وہ جاتا ہے کہ وہ وضعی احادیث ہیں ان کا حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ سے کوئی تعلق نہیں ۔ : حدیث جو خود آپس میں بھی متضاد ہو اور قرآن کے مضامین سے بھی ٹکراتی ہو وہ آنحضرت کی طرف منسوب ہو ہی نہیں سکتی۔ پھر ہر وہ حدیث جس کی جڑیں Greek Mythology میں ملتی ہوں یعنی یونانی فلسفہ اور ان کے مصنوعی خداؤں کے تصور میں ملتی ہوں صاف پتا چلتا ہے کہ وہ تصور رفتہ رفتہ اسلام میں ر اسلام میں راہ پاگئے اور بعض علماء نے اس تصور پر بنی بعض لوگوں کی من گھڑت حدیثوں کو قبول کر لیا اس سے زیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ جو احادیث قطعی مثلاً بخاری میں ملتی ہیں یا اور مستند کتب میں ہیں ان میں ان باتوں کا اشارہ بھی ذکر نہیں ملتا جو آخری زمانے کی ایسی احادیث میں جو مثلاً حدیث کی کتب میں ہی نہیں بلکہ وہ ایک تاریخ کی کتاب میں ملتی ہیں جس کا مصنف اس تاریخ کا سات سو سال بعد پیدا ہوا ہے یا تفسیر میں ملتی ہیں ، ایسی تفسیر میں جو بہت بعد کے زمانے کے علماء کی تفسیریں ہیں یا ایسی حدیثوں کی کتب میں ملتی یا ہیں جن کا مصنف یا مؤلف چار سو سال بعد رسول اللہ ﷺ کے، چار سو جمع کچھ سال کے بعد فوت ہوتا ہے اور ایسی حدیثوں کی بھر مار پیچھے چھوڑ گیا ہے جو اسلام میں کثرت کے ساتھ فتنے کا موجب تو بن سکتی ہیں نور کے پھیلانے کا موجب نہیں بنتیں کیونکہ وہ تمام احادیث اپنے اندر گواہی رکھتی ہیں کہ من گھڑت باتیں ہیں۔ نہ قرآن سے ان کا تعلق ہے نہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ سے ان کا کوئی تعلق ہے۔ ان احادیث کے چند نمونے میں آپ کے سامنے رکھ کر پر قرآن وحدیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تشریحات کے حوالے سے اس مضمون کو مزید کھولوں گا۔ صلى الله بحواله در منشور للسیوطی ، اب سیوطی کی کتاب جو سیوطی ہیں مؤلف یا مصنف، یہ علامہ جلال الدین سیوطی آنحضرت ا کے 849 سال بعد پیدا ہوئے ہیں اور 849 بعد اور بعض حدیثیں درج کر رہے ہیں جن کی کوئی بھی مستقل سند ایسی نہیں ہے جس کا رسول اللہ ﷺ تک پہنچنا قطعی طور پر ثابت کیا جا سکے کیونکہ وہ حدیث جو 800 سال تک ڈوبی رہی ہے وہ اچانک اس تفسیر نگار کے ہاتھ کیسے آگئی اور اس سارے عرصے میں بڑے بڑے عظیم محد ثین گزرے ان کو کانوں کان تک خبر نہ ہوئی کہ یہ حدیث بھی دنیا میں موجود ہے اور انہی مصنفین نے اس قسم کی حدیثیں پیش کیں جن کا اعتماد