خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 757
خطبات طاہر جلد 14 757 خطبه جمعه 6 را کتوبر 1995ء وَالْأَحْزَابُ (المؤمن: 6) اس سے پہلے نوح کی قوم نے بھی جھٹلایا تھا الْأَحْزَابُ اور کئی قسم کے گروہ اور جتھے تھے جنہوں نے جھٹلا دیا تھا جو حضرت نوح کے بعد آئے ۔ مِنْ بَعْدِهِمْ ، وَهَمَّتْ كُلُّ أُمَّةٍ بِرَسُوْلِهِمْ اور ہر امت نے ہر قوم نے جس کی طرف رسول بھیجا گیا ہے ایڑی چوٹی کا زور لگالیا و هَمَّت پورے ارادے کے ساتھ ، پورے عزم کے ساتھ یہ فیصلہ کر لیا۔ لِيَأْخُذُوهُ وَجَدَلُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْ حِضُوا بِهِ الْحَقَّ کیا عزم کر لیا، کیا ارادہ لے کر اٹھے تا کہ وہ اس کو پکڑ لیں اور رسول سے وَجَدَلُوا بِالْبَاطِلِ باطل کے ذریعے جھوٹ کے ذریعے اس کے ساتھ سخت لڑائی شروع کر دیں ان کی ساری باتیں جھوٹی ہوتی ہیں جب وہ انبیاء کا اور حق کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اب آپ دیکھ لیں روزانہ قرآن کریم کی اس آیت کی گواہی میں پاکستان کے اخبارات بھرے پڑے ہوتے ہیں اور یہاں کا ”جنگ“ بھی اور یہاں کے اخبارات جن میں ان لوگوں کی رسائی ہے ہر خبر جو احمدیت کے متعلق دیتے ہیں اس میں جھوٹ کی ملونی ضرور ہوتی ہے۔ کہیں قسمت سے کوئی سچی بات منہ سے نکل جائے تو ساتھ جھوٹ شروع کر دیتے ہیں۔ میں نے آج تک احمدیت کے کسی مخالف کو کلیہ سچا نہیں پایا ۔ اکثریت ایسی ہے جو بھاری تعداد میں اکثر جھوٹ بولتی ہے اور احمدیت کے ذکر میں تو جھوٹ لگتا ہے ان کو ماں کے دودھ کی طرح لگتا ہے، وہ اس کے بغیر پل ہی نہیں سکتے۔ تو قرآن کریم نے دیکھو کتنا سچا بیان دیا ہے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو جھوٹ پر پہنتے ہیں۔ ان کے ہتھیار جھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں جھوٹی ہوتی ہیں اور یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم نے حق کو مٹانا ہے جھوٹ کے ساتھ کوئی پاکستان کا ہو یا پاکستان سے باہر ہو، ذی شعور ہو، اس میں انصاف کا مادہ ہو، اگر وہ دیکھے کہ ہمارے مد مقابل ہمارے خلاف کسی طرح جھوٹ بولتے ہیں تو صرف یہی بات احمدیت کی صداقت کا قائل کرنے کے لئے اس کو کافی ہونی چاہئے اور قرآن کریم کی عظمت کا بھی اس کو قائل ہونا چاہئے کہ فرمایا یہ ایک دائمی دستور ہے اس میں تم کوئی تبدیلی نہیں دیکھو گے مٹانے کے عزم کے ساتھ جھوٹ کا عزم شامل ہو جاتا ہے اس کے بغیر ان کا گزارہ ہی کوئی نہیں لیدْ حِضُوا بِهِ الْحَقِّ وہ چاہتے ہیں کہ وہ اس کے ذریعے حق کو مٹا دیں بھلا ہو سکتا ہے کہ جھوٹ حق پر غالب آجائے۔