خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 756 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 756

خطبات طاہر جلد 14 756 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1995ء آئے گا اس کا تعلق صفات سے ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حصہ یہ وہ قرآن کی آیات ہیں جو خدا کی حمد بیان کرتی ہیں اور اس کا مسجد بیان کرتی ہیں اس کی بزرگی کے جلوے دکھانے والی آیات ہیں۔غَافِرِ الذَنْبِ (المؤمن: 4) وہ گناہوں کا بخشنے والا ہے۔وَقَابِلِ التَّوبِ اور تو بہ کو قبول کرنے والا ہے شَدِیدِ الْعِقَابِ جب پکڑتا ہے تو بہت سخت پکڑ ہے اس کی ذِی الطولِ اور اس کی پہنچ بہت ہے، اس کی وسعتوں کی انتہا کوئی نہیں اور ذی الطَّولِ میں بخشش کا بے پناہ ہونا بھی اس میں موجود پایا جاتا ہے۔پر ذِي الطَّولِ کا جو ترجمہ مصلح موعودؓ نے کیا ہے وہ ہے بڑا احسان کرنے والا، الول میں دراصل اس کی وسعت، اس کی عظمت اس کی رحمتوں کی انتہا یہ ساری چیزیں آ جاتی ہیں۔اس لئے ذنب کے مضمون کے بعد فرمایاوہ مغفرت تو کرنے والا ہے لیکن بے دھڑک بھی نہ ہو جانا۔یہ نہ سمجھ لینا کہ چونکہ مغفرت کرنے والا ہے اس لئے بے دھڑک ہو کر جسارتیں کرنے لگو کیونکہ جب وہ پکڑتا ہے بہت سخت پکڑتا ہے۔اس کی پکڑ سے پھر کوئی چیز کسی وجود کو بچا نہیں سکتی لیکن یاد رکھنا کہ پکڑ کا مزاج غالب مزاج نہیں ہے۔جو غالب مزاج ہے وہ پس ذی الطولِ ہے، بہت ہی کریم ہے، بے انتہا خوبیوں کا مالک اور احسان کرنے والا۔پس طول کے لفظ میں ہر قسم کی صفات کی وسعتیں آجاتی ہیں۔لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔اِلَيْهِ الْمَصِيرُ مگر یا درکھنا لوٹ کر اس کی طرف جانا ہے۔پس اس مضمون کے بعد پھر فرمایا کہ جو اہل علم ہیں اہل عقل ہیں، وہ جرات نہیں کرتے کہ اس کے نشانات کا انکار کریں۔مَا يُجَادِلُ فِي آیتِ اللهِ إِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوا (المومن: 5) صرف کافر ہی ہیں جو پھر اس کی صفات میں بحث کرتے ہیں۔اس کے متعلق بے ہودہ نا مناسب باتیں کرتے ہیں اور پھر اپنی طرف سے اپنے حق میں دلائل بھی پیش کرتے ہیں۔یہ وہ ہیں جو جدال کرنے والے لوگ ہیں۔فَلَا يَغُرُرُكَ تَقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ وہ دنیا میں ایسے لوگ دوڑے پھرتے ہیں آزادانہ جو چاہیں کرتے پھریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تجھے یہ بات دھو کے میں مبتلا نہ کر دے کہ یہ لوگ غالب ہیں، یہ آزاد ہیں، اپنی من مانیاں کرنے والے ہیں، ان کو وسعتیں عطا ہوئی ہیں، جس ملک میں جائیں جو چاہیں پرو پیگنڈا کریں۔فرمایا یہ بات تجھے دھوکے میں مبتلا نہ کر دے کیونکہ اس سے پہلے جن جن لوگوں نے جھٹلایا ہے ان کا انجام دیکھ کہ کیا ہوا۔فرمایا كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ