خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 755 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 755

خطبات طاہر جلد 14 755 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1995ء رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ( البقرة: 287) اس کی سمجھ آئی کہ اس سے مراد عرش کا اٹھانا ہے۔اے خدا ہم تیرے عرش کو اٹھانے والے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ تیری صفات کو اپنے اوپر بھی جلوہ گر کریں اور تمام دنیا میں ان صفات کو نافذ کر دیں، ان صفات کا عرفان بخشیں اور انسانوں کی رگ و پے میں وہ صفات دوڑنے لگیں، یہ ہماری تمنا ہے یہ ہم سے توقعات ہیں۔پس طاقت کے مطابق ہم سے یہ کام لے اور جس حد تک ہم میں وسعت ہے تیرے عرش کو اٹھانے کی اسی حد تک یہ بوجھ ہم پر ڈال۔پس سب سے بڑا عرش کو اٹھانے والا وجود حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا وجود تھا۔اس لئے وہ ترجمہ کرنے والے جو یہاں فرشتے ترجمہ کرتے ہیں اور بہت سے علماء اور چوٹی کے بزرگوں نے بھی یہ ترجمہ کیا ہوا ہے وہ اس لئے کرتے ہیں کہ بعض دوسری جگہ بھی فرشتوں کے حوالے سے عرش کو اٹھانے کا مضمون بیان ہوتا ہوا معلوم ہوتا ہے حالانکہ وہاں بھی فرشتوں کا ذکر نہیں ہے۔اصل عرش اٹھانے والے حضرت محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے ساتھی ہیں کیونکہ خدا سب سے زیادہ آنحضرت کے دل پر جلوہ گر ہوا ہے۔کوئی دنیا کا انسان، باشعور انسان علم کے بعد اس کا انکار نہیں کر سکتا۔یہ کوئی ایسی بات نہیں جس میں فرقوں کا اختلاف ہو بلکہ ہر مذہب والا جب وہ غور کرے گا قرآن کریم پر اور دیکھے گا کہ جس طرح خدا کی صفات قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں اس کا عشر عشیر بھی دوسری الہی کتب میں نہیں ملتا اور جس تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہیں اور جس تفصیل سے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے ان پر روشنی ڈالی اور خود اپنی ذات میں جاری کر کے ان کو دکھایا یہ مضمون اسلام جیسا کہیں کسی دنیا کے خطے میں کسی مذہب میں دکھائی نہیں دیتا۔تو اصل حمل عرش سے مراد خدا تعالیٰ کی صفات کو جاری کرنا اور ان کا مظہر بننا ہے اور اسی لئے الَّذِينَ سے پہلے جو مضمون ہے وہ ان انسانوں کی بات ہورہی ہے جو خدا کے پیغام کور د کر دیتے ہیں اور ان کے مد مقابل وہ انسان بیان ہوئے ہیں جو خدا کے پیغام کو نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ اس کا مظہر بن جاتے ہیں اور سب سے زیادہ ذمہ داری اس کی ادا کرتے ہیں۔یہ جو آیات ہیں سورہ المومن سے لی گئی ہیں اور اس کی پہلی آیت حق ہے۔اس میں شروع میں بیان ان لوگوں کا ہے جنہوں نے انبیاء کا انکار کیا۔صفات باری تعالیٰ کے بیان کے بعد پھر ان کا ذکر شروع کرتا ہے پس جو عرش بعد میں