خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 71

خطبات طاہر جلد 14 71 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء لئے ہیں مگر روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزا بنوں گا۔یعنی اس کی اس نیکی کے بدلے میں اسے اپنا دیدار نصیب کروں گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزہ ڈھال ہے پس تم میں سے جب کسی کا روزہ ہو تو نہ وہ بے ہودہ باتیں کرے، نہ شور و شر کرے۔اگر اس سے کوئی گالی گلوچ کرے یا لڑے جھگڑے تو وہ جواب میں کہے کہ میں نے تو روزہ رکھا ہوا ہے۔قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے۔روزے دار کی منہ کی بو بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے زیادہ پاکیزہ اور خوش گوار ہے کیونکہ اس نے اپنا یہ حال خدا کی خاطر بنا رکھا ہے۔روزہ دار کے لئے دو خوشیاں مقدر ہیں۔ایک خوشی اسے اس وقت ہوتی ہے جب وہ روزہ افطار کرتا ہے اور دوسری اس وقت ہوگی جب روزے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ملاقات نصیب ہوگی۔(بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر: 1771) اس حدیث میں جس طرح اثر اند از طریق پر روزے کی اہمیت اور روزے کا جو عظیم اجر ہے وہ بیان فرمایا گیا ہے اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔پہلے بھی میں اس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال چکا ہوں۔آج میں آپ کو صرف یہ کہوں گا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ ایک خوشی اسے اس وقت ہوتی ہے جب وہ روزہ افطار کرتا ہے۔یہ ایک روز مرہ کی حقیقت ہے، ہر شخص کے تجربے میں اور کتنی سچی حقیقت ہے۔وہ لوگ جو بیمار بھی ہوں جن کو بھوک نہ بھی لگتی ہو روزہ رکھنے کے بعد جو افطار کا لطف حاصل کرتے ہیں اس کی اور کھانوں میں مثال دکھائی نہیں دیتی۔ایک خاص اس کی کیفیت ہے جو افطار کے وقت انسان کو میسر آتی ہے جس کی فرحت کی کوئی مثال کسی اور جگہ دکھائی نہیں دیتی۔یہ بات جتنی سچی ہے اتنی ہی دوسری بات بھی سچی اور قطعی ہے کہ اللہ کی رؤیت بھی نصیب ہو سکتی ہے اور اس کا ایک اپنا مزہ ہے۔تو آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ مومنوں کو دو فرحتیں ملتی ہیں رمضان میں۔اگر ہم ایک فرحت کے وعدے کو سچا دیکھتے ہوں اور دوسری فرحت کے وعدے کا انتظار کرتے رہیں اور ہمارے حق میں پورا نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلا مزہ بھی جھوٹا مزہ تھا، بے معنی اور بے حقیقت مزہ تھا۔اگر افطار کا مزہ سچا ہوتا تو پھر وہ افطار بھی اللہ کرواتا جو خدا سے دوری کے بعد اس کے وصل کا افطار ہے اور اس پہلو سے بھی رمضان میں خصوصیت کے ساتھ محنت کریں، دعائیں کریں، استغفار کریں اور اللہ سے روزے کی وہ جزا مانگیں جو اللہ نے خود بیان فرمائی ہے کہ وہ جزا میں ہوں۔پس اگر اس رمضان میں ہمیں یہ جزامل جائے تو سب کچھ مل گیا۔اس جزا کے