خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 751 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 751

خطبات طاہر جلد 14 751 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1995ء ہیں کہ نہیں۔خالی ایمان اگر کوئی جلوے دکھاتا بھی رہے تو جب تک وہ عمل ساتھ نہ ہو جس کا قرآن کریم نے بطور شرط ذکر کیا ہے یہ ایمان کچھ دیر کے بعد مرجھا جائے گا۔اس کو عبادت زندہ رکھتی ہے۔الَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره:4) مومن وہ ہیں جو نماز کو قائم کرتے ہیں اور پھر خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔یہ سادہ سی تعریف ہے مگر انسان زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہے۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت ناروے خصوصیت سے اس پہلو کی طرف بھی توجہ دے گی کیونکہ اگر یہ کرے گی تو ان کی نیکیوں کو استقلال نصیب ہو جائے گا، ان کی نیکیاں دائمی ہو جائیں گی کیونکہ عبادت کرنے والے کی نیکیوں کی حفاظت عبادت کرتی ہے۔إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنکبوت:46) قرآن کریم نے جو صفات بیان کی ہیں نماز کی اور نمازی کی اس سے پتا چلتا ہے کہ سب تر بیتوں سے بڑھ کر تربیت یہ ہے کہ کسی شخص کو باجماعت نماز کا عادی بنا دیا جائے اور پھر نماز کے قیام میں یہ بات لازماً ہے کہ جو نماز پڑھتا ہے اس کو نماز کا ترجمہ بھی آتا ہوں، سوچ سمجھ کر پڑھے۔اس مضمون میں جو نماز کے دوران پڑھا جاتا ہے تربیت کے بے انتہا مصالح موجود ہیں۔وہ مصلحتیں جن کے پیش نظر خدا تعالیٰ نے وہ عبادتیں مقرر فرمائی ہیں وہ بھی فائدہ پہنچا سکتی ہیں اگر آپ کو ان کا ترجمہ آتا ہو، ان کا مضمون سمجھتے ہوں، ان کے مضمون پر غور کرنے کی عادت پڑ جائے۔تو پھر ان میں سے نئی نئی باتیں از خود پھوٹتی چلی جائیں گی، ہمیشہ کا رزق نصیب ہوگا، ایسا رزق جس میں نفاد نہیں، جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔تو اللہ تعالیٰ سب دنیا کی جماعتوں کو ان دو نصیحتوں پر خصوصیت سے عمل کی توفیق بخشے جو ایک کینیڈا کو خصوصاً پیش نظر رکھ کر کی ہے اور ایک ناروے کو بالخصوص پیش نظر رکھ کے کر رہا ہوں۔اب میں ان آیات کی طرف آتا ہوں اگر بقیہ وقت میں یہ بیان نہ بھی ہو سکیں تو انشاء اللہ اگلے خطبہ میں باقی مضمون میں ادا کروں گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الَّذِيْنَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ وہ لوگ جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں وَمَنْ حَوْلَهُ اور جو اس کے اردگرد ہیں يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِرَ بھم وہ سب اپنے رب کی حمد کرتے ہیں اور حمد تسبیح کے ساتھ کرتے ہیں یا تسبیح حمد کے ساتھ کرتے ہیں۔تسبیح سے مراد یہ ہے کہ اس کو ہر نقص سے پاک بیان کرتے ہیں اور کچی گواہی دیتے ہیں۔نظر رکھنے کے بعد یہ بیان دیتے ہیں کہ ہمارا رب ہر نقص سے پاک ہے۔جس جس