خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 750
خطبات طاہر جلد 14 750 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1995ء رہتی ہے۔اس لئے ناروے کی جماعت کو چاہئے کہ دعائیں کرے، استغفار کرے اور ایک پہلو کی طرف خصوصیت سے توجہ کرے کہ بعض دفعہ خدمت دین کرنے والے خدمت دین کو اتنا اہم سمجھتے ہیں کہ اپنی نادانی ، نا مجھی کی وجہ سے بنیادی باتوں سے غافل ہو جاتے ہیں۔مثلاً نماز با جماعت ہے، نماز کا ترجمہ ہے، قرآن کریم سے محبت اور اس کی تلاوت ہے، بنیادی دینی اخلاق ہیں۔تو کئی دفعہ یہ بھی دیکھا گیا ہے یہاں ابھی میرے سامنے ایسی باتیں آئیں لیکن پاکستان میں بسا اوقات جب میں صدر مجلس تھا مجھے شکایات آتی تھیں کہ اچھی مجلس عاملہ ہے جو باہر نماز کھڑی ہوئی تھی اور یہ اپنے دفتر میں مجلس عاملہ بن کے بیٹھے ہوئے تھے۔ان کو میں نے ڈانٹا، میں نے کہا جس مقصد کے لئے تم پیدا کئے گئے ہو، جس مقصد کو بطور خاص سنبھال رکھا ہے اس کو بھلا کر تم کیا خدمت سرانجام دو گے، کسی ایسی مجلس کی ضرورت نہیں ہے۔نماز کے قیام کا مذہب کی تعلیم میں سب سے نمایاں حصہ ہے۔یہ وہ مقصد ہے جس کی خاطر انسان کو پیدا کیا گیا ہے جہاں خدا تعالیٰ نے خود سہولتیں مہیا فرمائی ہیں اجتماعی طور پر جماعت ان سہولتوں سے فائدہ اٹھاتی ہے۔جب اجتماعی باتیں ہوں سفر کے دوران یا ویسے بعض ضرورتیں ہوں جہاں خدا نے اجازت دی ہے کہ نمازیں جمع کرو وہاں جماعت نمازیں جمع کرنے کو برانہیں سمجھتی۔مگر ایک نظام کے تحت کام ہوتا ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ جماعت کھڑی ہو جائے اور کچھ لوگ کہیں ہم مجلس عاملہ کی میٹنگ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ان کا فرض ہے کہ ہر کام چھوڑ کر جب عبادت کے لئے آواز آئے تو اس کے لئے حاضر ہوں اور اجتماعی طور پر باجماعت نماز ادا کریں۔سوائے اس کے کہ نظام جماعت ان کو کسی کام پر مقرر کرے اور ایسی صورت میں بھی نماز با جماعت کے بعد ان کو پھر با جماعت نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔وہ لوگ جو کارکن ہیں ان کے لئے ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ ان کو بعد میں اکٹھا ایک امام کے تابع نماز پڑھنے کا موقع مل جائے۔تو ناروے کو میری نصیحت یہ ہے کہ اول تو جو اس وقت بے کار ہیں ان کو بھی کام میں لائیں اور اس طرف میں نے اشارے کر دیئے ہیں کیا کیا طریق ہیں اور دوسرا یہ کہ جو نو جوان خدمت کر رہے ہیں ان کی بنیادی تربیت کی طرف توجہ دیں اور یہ دیکھیں کہ اس خدمت کے ساتھ ساتھ وہ بحیثیت مومن خدمت کے شایان شان بھی ہیں کہ نہیں۔ان میں ایمان کی صفات عمل کے ساتھ جلوہ گر