خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 749
خطبات طاہر جلد 14 749 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1995ء گئے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ایسے ہیں جن کو اردو بھی یاد ہے۔ان کے ماں باپ نے اردو کی نسبت سے بھی ان کی تربیت کی ہوئی ہے۔تو آپ کے پاس مواد موجود ہے خواہ عمریں چھوٹی ہوں، ان کی ٹیمیں بنائیں اور انہوں نے پھر خدا کے فضل سے اللہ امیر صاحب کو جزا دے کہ جو بھی کام کہا جاتا ہے فورا سر گرم عمل ہو جاتے ہیں۔اپنی تعلیم جیسی بھی ہومگر جو اطاعت کا جذبہ ہے وہ ایسا نمایاں ہے کہ ایک سیکنڈ دیر نہیں لگنے دیتے۔ادھر پیغام ملا ادھر وہ کام شروع کر دیا تو انہوں نے دیکھتے دیکھتے ٹیمیں بنالیں اور اس تیزی سے وہ ترجمہ ہوا کہ میں حیران رہ گیا۔مجھے یہ خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ ترجمہ بالکل نکمہ ہی نہ ہو جو اس قدر تیز ہو گیا ہے تو یہاں کی چوٹی کی کمپنی کو جب اس کا نمونہ بھیجا تو انہوں نے کہا کہ بہترین ترجمہ ہے ایک نقص بھی ہم نہیں نکال سکے۔تو یہ دیکھئے اللہ تعالیٰ نے اب یورپ میں ہمیں وہ نئی نسلیں عطا کر دی ہیں جن کو وہاں کی زبان انہیں لوگوں سے سیکھنے کی توفیق ملی ہے جس طرح ان کے بچوں نے سیکھی ویسے انہوں نے سیکھی اور اردو بھی آتی ہے بہتوں کو انگریزی بھی آتی ہے اور ہماری بڑھتی ہوئی لٹریچر کی ضرورتیں جن کے متعلق فکر رہتا تھا کہ اب کیسے پوری ہوں گی اللہ تعالیٰ نے ہمارے سامنے دیکھتے دیکھتے ہماری کوششوں کے بغیر خود بخود پوری کر دیں اور پھر ان کے دلوں پر قبضہ کر لیا۔یورپ میں پلنے والی نئی نسلوں کا اپنے آپ کو اس طرح پیش کر دینا جس طرح تمام یورپ میں جب بھی کہا گیا ہے احمدی بچوں اور بچیوں نے پیش کیا ہے اس کی مثال آپ کو دنیا میں دکھائی نہیں دے سکتی۔یہاں تو پلنے والے بچے اپنے گھروں کے نہیں رہتے ، اپنے ماں باپ سے اجنبی ہو جاتے ہیں کجا یہ کہ مذہب کے نام پر جو اس زمانے میں ایک قدیم سی بات سجھی جاتی ہے ان کو بلایا جائے اور ذوق شوق سے آئیں اور سنیں کہ لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں تو بغیر بلائے بھی آنے شروع ہو جائیں۔خط لکھیں ، اصرار کریں کہ ہم بھی تو ہیں، ہمیں بھی تو خدمت کا موقع دو۔پس اس پہلو سے اب کوئی بھی ایسی آواز نہیں ہے جو اٹھائی جائے اور اس کے جواب میں لبیک لبیک کی آوازیں نہ آئیں۔یہ بھی تو اللہ کا فضل ہے جو آسمان سے اترا ہے۔یہ بھی اس بہار کا حصہ ہے جس کا میں نے ابتداء میں ذکر کیا تھا کہ بہار کا موسم آ گیا ہے اٹھو اٹھو، اب وہ خزاں کی باتیں پیچھے چھوڑ دو۔پس جہاں خدا کے فضل سے پہلے سے بہار ہے اس میں مزید تر و تازگی کی گنجائش تو ہمیشہ