خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 748 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 748

خطبات طاہر جلد 14 748 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1995ء لحاظ سے بھی بہت سے دوسرے ادارے ہیں جو تبلیغی کام کرتے ہیں۔تربیتی لحاظ سے بھی ، مہمان نوازی کے لحاظ سے بھی بہت بڑی ضرورتیں ہیں ، کھانے کا انتظام جو فوجوں کے ساتھ چلتا ہے ایک بہت بڑا شعبہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لنگر کو جماعت احمدیہ کے مقاصد میں پانچواں حصہ قرار دیا ہے۔یعنی فتح اسلام کے لئے جو منصو بہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا اور جس منصوبے کو مختصر کتابچے میں لکھا تو اس کا نام ” فتح اسلام “ رکھا اس میں اس کارخانے کی پانچویں شاخ اور برابر کی حصے دار مہمان نوازی کو قرار دیا ہے اور لنگر خانہ اس کا نام رکھا ہے تو میں جانتا ہوں۔جہاں جہاں بھی داعی الی اللہ کا میاب ہیں وہاں خدا کے فضل سے بسا اوقات گھر بیٹھے ان کی بیویاں بھی برابر کی حصہ دار ہوتی ہیں کیونکہ وقت بے وقت وہ زیر دعوت لوگوں کو گھر پر بلاتے ہیں۔گھر سے بد خلقی کا سلوک ہو بیوی ان سے لڑے کہ تو نے یہ کیا مصیبت ڈال دی ہے اگر آواز میں اور بچوں کا شور باہر جائے تو وہ آنے والا تو گھبرا کر نکل جائے گا۔مگر ایسی عورتیں بھی ہیں خدا کے فضل سے جو دن رات محنت میں اپنے خاوند کا ساتھ دے رہی ہیں ، مالی قربانی میں بھی ، کھانے پکانے کی محنت ، خوش اخلاقی سے آنے والوں کے دل جیتنا یہ سارے کام ہیں۔تو بس دعوت الی اللہ صرف پیغام پہنچانے کا نام نہیں ، پیغام پہنچانے کے لئے فضا سازگار کرنا، اس کی تمام ماحولیاتی ضروریات پوری کرنا، ہر قسم کی خدمتیں جو دعوت الی اللہ کرنے والوں کو طاقت عطا کرتی ہیں، ان کے کام میں مد ہوتی ہیں، یہ سب دعوت الی اللہ کے کام ہیں۔پس اس پہلو سے اگر جماعت ناروے ان لوگوں کو منظم کرے جو زبان نہیں جانتے ، جن میں اور بعض ایسی کمزوریاں ہیں کہ وہ میدان عمل میں جا کر خود تبلیغ نہیں کر سکتے تو آپ کی ایک بہت بڑی ضرورت پوری ہو جائے گی۔اب وہ جانتے ہیں کیونکہ ایک ایسی بات ہے جس میں وہ باقی دنیا کے لئے نمونہ بن گئے۔قرآن کریم کے ترجمے کا مسئلہ تھا وہ خاتون جنہوں نے پہلے ترجمہ شروع کیا تھا نارویجین تھیں انہوں نے کچھ دیر کے بعد اس سے ہاتھ اٹھا لئے اور کہا یہ میں نہیں اب کروں گی اور اس مشکل کے وقت میں نے ناروے کی جماعت کو کہا کہ چیلنج ہے آپ کی نئی نسل کے بچے خدا کے فضل سے ایسے ہیں جنہوں نے نارو بکن زبان میں نارو بجز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور امتیازی سر ٹیفلیٹس ان کو ملے ہیں اور ان کے اساتذہ حیران رہ گئے ہیں کہ غیر قوموں سے آئے اور ہماری زبان میں ہمارے بچوں کو پیچھے چھوڑ