خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 70
خطبات طاہر جلد 14 70 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء زیادہ ہوتا تھا جب رمضان میں جبرائیل آپ سے ملتے تھے۔جبرائیل آپ کو رمضان کی ہر رات کو ملتے تھے اور آپ کے ساتھ قرآن کریم کا جو اس وقت تک نازل ہو چکا ہوتا دور مکمل کرتے تھے۔رمضان میں آپ تند و تیز ہوا سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ صدقہ و خیرات کیا کرتے تھے۔آپ کے صدقہ وخیرات کی مثال تیز ہواؤں سے دی جاتی ہے مگر رمضان میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس ہوانے جو پہلے بھی تیز بھی جھکڑ کی شکل اختیار کر لی ہے بکثرت صدقہ وخیرات کرتے تھے۔آج کل جو صدقہ و خیرات کے محل ہیں ان میں بوسنیا کے مظلوم بھی ہیں کشمیر کے مظلوم بھی ہیں اور روس میں مختلف علاقوں میں جو مظلوم پائے جاتے ہیں وہ بھی ہیں، افریقہ کے بہت سے علاقوں کے مظلوم ہیں اور کئی طرح سے دنیا میں ہر طرف انسان ظلموں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اس کے علاوہ روز مرہ کی غربت کا نشانہ بھی ہے۔روزمرہ کے فاقوں کا نشانہ بھی ہے، اپنی قوم کے سرداروں کی بے حسی سے بھی دکھ اٹھا رہا ہے، اپنے گناہوں سے دکھ اٹھا رہا ہے، طرح طرح کے ایسے عوامل ہیں جو اس کی تکلیفوں میں اضافہ کرتے چلے جا رہے ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔تو ان سب کو صدقہ و خیرات میں شامل کرنا ایک چھوٹی سی جماعت کے لئے جو اور بھی بہت سے نیکی کے کاموں میں مشغول ہے اور بہت بوجھ اٹھائے چل رہی ہے اللہ کے فضل کے ساتھ اس کے لئے ممکن نہیں ہے کہ سو فیصدی ان تقاضوں کو پورا کر سکے مگر وہی بات ہے کہ گناہوں کے شہر سے نیکی کے شہر کی طرف جانے کا وقت نہیں تھا، توفیق نہیں تھی مگر کوشش ایسی کی کہ گھسٹ گھسٹ کے بھی بڑھنے کی کوشش کی۔تو عام طور پر جو آپ صدقہ و خیرات دیتے ہیں ، سارے مالی بوجھ اپنی جگہ قائم اور دائم ہیں، جو فرائض ہم پر عائد ہوئے ہیں جو ذمہ داریاں ہم قبول کر چکے ہیں ان کو کم نہیں کر سکتے لیکن کچھ اور اگر نکال لیں گویا گھسٹ گھسٹ کر بدیوں کے شہر سے نیکیوں کے شہر کی طرف بڑھ رہے ہوں تو یہ ادا اللہ کو بہت پیاری لگے گی اور اس ادا کے صدقے ہمارے بہت سے گناہ بخشے جاسکتے ہیں۔پس اپنے اپنے حالات پر نظر ڈالیں عام حالات میں جو آپ صدقہ و خیرات کیا کرتے تھے رمضان میں ضرور اسے تیز تر کرنے کی کوشش کریں۔یہ حدیث بخاری کتاب الصوم سے لی گئی تھی۔ایک حدیث یہ بھی بخاری کتاب الصوم سے لی گئی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انسان کے سب کام اس کے اپنے