خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 744
خطبات طاہر جلد 14 744 خطبہ جمعہ 6 اکتوبر 1995ء پیدا ہو جاتی ہے، نیا حوصلہ آتا ہے۔جہاں جہاں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے دعوت الی اللہ کے کام کئے ہیں ان کے مردے بھی جی اٹھے ہیں۔وہ لوگ جن کے متعلق جماعت کو وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ ان میں کوئی روحانی زندگی کے آثار ہیں۔بس سانس پر زندہ تھے مگر کوئی ایسے آثار نہیں تھے جس سے ان میں حرکت دکھائی دے، ان سے توقعات کی جاسکیں۔مگر جور پورٹیں آتی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ جہاں جہاں بھی کوئی داعی الی اللہ بن گیا ہے اس کی کایا پلٹ گئی ہے اور یہی حال ہے جرمنی میں خدا کے فضل سے وہ بے چارے جو تربیت کے لحاظ سے بہت ہی پسماندہ اور محتاج تھے، ایسی جماعتوں سے آئے تھے جہاں لمبے عرصے سے ان کی تربیت نہیں کی گئی یا کی گئی تو انہوں نے اس کو رد کر دیا، جب داعی الی اللہ بنے ہیں تو ان کی کایا ہی پلٹ گئی ہے خدا کے فضل سے۔اپنے لئے بھی دعائیں کرتے ہیں جن پر ان کی نظر ہے پھر ان کے لئے بھی کرتے ہیں جو ان کی جھولی میں پھل کے طور پر گرادیئے گئے۔پس بہت ہی قابل فکر بات ہے جماعت کینیڈا کو اس میں خاص توجہ دینی چاہئے۔اور انصار اللہ کی تو عمر ایسی ہے کہ اب اس کے بعد پھر دوسری دنیا کا سفر ہی ہے نا۔اکا دکا تو اطفال بھی اٹھ جاتے ہیں اور خدام بھی اٹھ جاتے ہیں۔مگر بطور جماعت کے انصار کے پرلی طرف کوئی اور جماعت نہیں ہے جس میں شامل ہو جائیں گے۔اطفال کی جماعت بڑی ہوتی ہے، خدام میں داخل ہو جاتی ہے۔ناصرات کی جماعت بڑی ہوتی ہے لجنہ میں چلی جاتی ہے۔خدام کی جماعت بڑی ہوتی ہے انصار اللہ میں داخل ہو جاتی ہے۔انصار کی جماعت ہزار سال کی بھی ہوگی تو اگلی دنیا میں جائے گی۔تو بحیثیت جماعت ان کا انجام دوسری دنیا کے سفر میں ہے۔تو جہاں دوسری دنیا کا سفر بالکل صاف سر پر کھڑا دکھائی دے رہا ہو، وہ سٹیشن ہی وہی ہے جہاں آگے گاڑی ٹھہرنی ہے، تو پھر اور زیادہ فکر کی ضرورت ہے۔ایسے وقت میں تو انسان کو اگر ساری عمر میں کچھ نہیں بھی کیا تو کوشش کرنی چاہئے کہ کچھ اتنی کمائی کرلے کہ خدا کے حضور حاضر ہو تو کچھ پیش تو کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام فرماتے ہیں: اے بے خبر بخدمت فرقاں کمر به بند زاں پیشتر کہ بانگ برآید فلاں نماند (در تشین فارسی :279)