خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 69 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 69

خطبات طاہر جلد 14 69 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء فرمایا وہ شخص جوان دو نیتوں کے ساتھ رمضان کی راتوں میں اٹھتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ پس اس پہلو سے جہاں یہ خوشخبری ہے وہاں انذار کا بھی رنگ رکھتی ہے۔ دراصل انذار اور دو خوشخبری یہ دونوں اتنے ملے جلے مضمون ہیں کہ ایک کو دوسرے سے کلیہ الگ کیا ہی نہیں جاسکتا۔ ہر اندار خوشخبری رکھتا ہے۔ یہ کام نہ کرو گے تو فائدہ اٹھاؤ گے۔ یہ کام کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے۔ تو ہر کروگے شخص جو انذار کی آواز سنتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے اس کے لئے اندار خوشخبری لے کے آتا ہے۔ رستوں پر جگہ جگہ بورڈ لگے ہوتے ہیں ” تیز موڑ ہے، ایک دم اونچائی آنے والی ہے، ایک طرف و گڑھے ہیں یا برف جمی ہوئی ہے۔“ یہ باتیں جو ہیں انذار ہیں لیکن اس انذار کو ہٹائیں تو دیکھیں کتنے دکھ پیدا ہوں گے۔ تو انذار کی کوکھ سے خوشخبریاں پیدا ہوتی ہیں اور خوشخبریاں بھی انذار کے بچے دیتی ہیں اگر ان خوشخبریوں پر عمل نہ کیا جائے اور ان سے فائدہ نہ اٹھایا جائے ۔ یہاں آنحضرت ﷺ نے جو فرمایا اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ پس اگر کوئی بد نصیب رمضان سے گزرے اور گناہ نہ بخشے بد جائیں تو بڑی بدنصیبی ہے۔ پس اس پہلو سے یہ خوشخبری ایک انذار کا بھی رنگ رکھتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے صحیح مسلم کتاب الصیام سے لی گئی ہے۔ وہ عرض کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا الصيام جنة کہ رمضان کا مہینہ یا روزے رکھنا ایک ڈھال ہے۔ ڈھال سے جس طرح انسان مختلف تیروں اور تلواروں یا نیزوں کی ضربوں سے محفوظ رہتا ہے اسی طرح شیطان کے نیزوں اور تلواروں اور اس کے تیروں کی ضرب سے انسان محفوظ رہتا ہے اگر وہ روزے رکھے اور ان کا حق ادا کرے تو ماہ صیام مومن کے لئے پورے کا پورا ایک ڈھال بن جاتا ہے۔ اس کی راتیں بھی ڈھال ہیں، اس کے دن بھی ڈھال ہیں اور کوشش یہ کرنی چاہئے کہ جس طرح آنحضور نے چاند کے حق میں یہ دعادی تھی کہ تو روزای طرح برکتوں اور خیر کے ساتھ نکلے۔ اسی طرح ہم یہ دعا بھی کریں کہ اے خدا رمضان کے بعد بھی یہ ڈھال ہمارا ساتھ نہ چھوڑے اور ہمارے آگے آگے بڑھے اور ہمارے دائیں بائیں اور پیچھے ہر قسم کے حملوں سے ہمیں ہمیشہ محفوظ رکھے۔ صلى الله بخاری کتاب الصوم میں حضرت ابن عباس سے یہ روایت درج ہے کہ رسول کریم ہے سب سے زیادہ صدقہ و خیرات کرنے والے تھے۔ لیکن آپ کا صدقہ و خیرات اس وقت سب سے