خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 68
خطبات طاہر جلد 14 68 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء کے لحاظ سے جتنی دیر وہ افق سے اوپر رہتا ہے۔ایک خاص وقت کے اندر اندر وہ دکھائی نہیں دے سکتا۔اس وقت سے اوپر نکلے یعنی اگر پندرہ منٹ ہیں اس وقت کے تو جب تک وہ سولہ منٹ کا نہ ہو اس وقت تک دکھائی دینے کا امکان ہی کوئی نہیں۔اگر وہ سولہ منٹ اوپر رہتا ہے تو پھر ایک منٹ تک اس کو دیکھا جا سکتا ہے یعنی بعینہ سولہ نہیں شاید ہمیں منٹ ہوں مگر مثال دے رہا ہوں۔ایک یہ زاویہ ہے جس سے چاند کے نکلنے کے امکان کو جانچا جا سکتا ہے۔ایک زاویہ ہے چاند کا زمین سے زاویہ۔وہ ایک خاص زاویہ سے اوپر دکھائی دے سکتا ہے۔اب اگر میرے ہاتھ کو آپ زاویہ بنا تا ہوا سمجھیں۔اگر یہ زاویہ نیچے ہو تو اس کا مطلب ہے وہ Horizon یعنی افق کے بہت قریب ہے اور افق کے قریب ہونے کی وجہ سے جو رستے میں دھند اور کئی قسم کے غبار ہیں وہ اس کی رؤیت کی راہ میں حائل ہو جاتے ہیں اور اگر زاویہ اونچا ہو تو اس بات کا واضح امکان ہو جاتا ہے کہ اس کی روشنی کثیف فضا سے لمبا عرصہ نہیں گزرتی بلکہ جلد ہم تک پہنچتی ہے، اس لئے اس کے نظر آنے کے زیادہ امکانات ہیں۔تو انہوں نے ایک پہلو سے یہ دیکھا کہ چاند نظر نہیں آسکتا اور دوسرے پہلو سے، زاویے سے دیکھا کہ شاید نظر آ جائے۔تو ان کو میں نے کہا کہ اصول یہ ہے کہ جس پہلو سے نظر نہیں آ سکتا وہ غالب ہوگا اور دوسرے کو وہ کاٹ نہیں سکتا اس لئے کم سے کم کا اصول یہاں رائج ہے۔جس زاویے میں وقتیں زیادہ ہیں وہی فیصلہ کرے گا کہ دوسرے زاویے سے بھی نظر آ سکتا ہے کہ نہیں۔تو بہر حال حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی یہ جو نصیحت ہے یہ ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ نیکی میں زبر دستی کرنے والوں کی بات قبول نہیں کرتا بلکہ جو رعایتیں دیتا ہے انہی کو قبول کرنا اور ان پر عمل کرنا ہی حقیقی نیکی ہے۔بخاری کتاب الصوم میں یہ روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص ایمان کے تقاضے اور ثواب کی نیت سے رمضان کی راتوں میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔اب یہ مسئلہ جو ہے بہت ہی گہرا ہے چھان بین والا مسئلہ ہے کہ ایمان کے تقاضے اور ثواب کی نیت۔ایمان کے تقاضے کیا کیا ہیں اور کن کن تقاضوں کو ہم پورا کر رہے ہیں اور ثواب کی نیت میں کیا کیا باتیں داخل ہیں۔بعض دفعہ فرض کی مجبوری سے بھی انسان اٹھتا ہے وہ بھی نیکی ہے مگر ثواب کی نیت سے اٹھنا ایک اور مضمون ہے۔فرض نہ بھی ہو تو ایسے لوگ راتوں کو اٹھتے ہیں۔تو آنحضرت ﷺ نے