خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 724
خطبات طاہر جلد 14 724 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء مضمون کو ثابت کرتا ہے کہ اللہ ہی پر تو کل ہونا چاہئے اور اسی پر ہمارا تو کل ہے اور یہاں تو کل کے عليو مومنوں کو شامل کر لیتے ہیں جہاں تک : تک نبوت کا صلى الله مضمون میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ اللہ سب مومنوں کو شام مضمون تھا وہ اس سے پہلے گزر گیا اس میں حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ تنہا تھے کیونکہ آپ ہی کو چنا گیا لیکن جب تو کل کا مضمون ہے تو انبیاء میں جو الہی تائیدات دیکھنے والے مومن ہیں ان کو تو کل عطا ہوتا ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ جب تک ہم اس کے ساتھ ہیں خدا ہمارے ساتھ ہے کیونکہ اس کے ساتھ یقیناً خدا ہے، وہ تو کل جو ہے وہ ہمیں عطا ہوا ہے۔ وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ۔ پس مومنوں کو چاہئے کہ اسی خدا پر توکل رکھیں اور تو کل جاری رکھیں جس خدا نے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی بے شمار اور لامتناہی تائیدات کے ذریعے ثابت کر دیا کہ آپ کا تو کل صرف خدا پر تھا۔ پھر اسی مضمون کو اسی طرح جیسا کہ پہلی آیت اپنی ذات میں شہادت رکھتی تھی کہ جو مضمون بیان ہو رہا ہے اسی طرح ہے۔ قرآن کی طرف کوئی بیرونی بات منسوب نہیں ہو رہی ، خود قران پیش کرتا ہے، اس کے دلائل قائم کرتا ہے۔ اگلی آیت اسی توکل کے مضمون کو لے کر آگے چلتی ہے وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَقَدْ هَدْنَا سُبُلَنا ہمارا ماضی گواہ ہے جب ہم جانتے ہیں کہ اس خدا نے ہمیں خود ہدایت کی راہیں دکھائی ہیں اور ان راہوں پر چل کے ہم نے کامیابیاں حاصل کی ہیں تو ہم پاگل ہو گئے ہیں و مالنا کا مطلب ہے ہم پاگل تو نہیں ہو گئے، ہمیں کیا ہو گیا ہے جو ہم پھر اس خدا پر تو کل نہ کریں جو تمام ماضی میں ہماری پشت پناہی فرماتا رہا اور ہماری تائید کرتا رہا اور ہمیں ہدایت کی راہیں دکھاتا چلا گیا۔ یہاں صراط مستقیم کا ذکر نہیں ہے یہ یاد رکھنا چاہئے وَقَدْ هَدْنَا سُبُلَنا ہر مومن کو جو مشکل درپیش ہوتی ہے اس سے خدا نکالتا ہے یہ اصل بنیادی مضمون ہے جو یہاں بیان فرمایا جا رہا ہے۔ ہر مومن کی اپنی راہ ہے اپنی مشکلات کی ، اپنی زندگی کی راہ ہے۔ کسی کی کچھ زیادہ ٹھن، کسی کی کم کٹھن مگر کسی مومن کی راہ آسان نہیں ہوتی مگر تو کل کے ذریعے۔ ہر مومن کی راہ کو اللہ کا فضل ہی آسان فرماتا ہے۔ تو مومن کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی گواہی میں ہم سب اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس پر جو خدا کا فیض نازل ہوا اس کی روشنی پھیل گئی اور ہم پر بھی وہ روشنی پڑی ہم پر بھی وہ