خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 723
خطبات طاہر جلد 14 723 خطبہ جمعہ 29 ستمبر 1995ء پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو فرمایا ہے کہ سب کچھ تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے (درشین : 36) یہ وہ مضمون ہے جس پر انبیاء کی نظر ہوتی ہے۔پس لوگ خواہ کسی معنوں میں بھی ان کا مرتبہ دیکھیں وہ اپنے مرتبے کو سب سے زیادہ پہچانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ مِن کے سوا کچھ بھی نہیں۔اللہ کا احسان ہے اور جو کچھ ہمیں عطا ہوا خدا ہی کی طرف سے عطا ہوا، منصب سے پہلے بھی اسی کی طرف سے عطا ہوا، منصب کے بعد بھی اسی کی طرف سے عطا ہوا۔اس کے بعد جب لوگ کہتے ہیں کہ یہ کر کے دکھاؤ تو کہتے ہیں ہم میں تو طاقت نہیں ہے۔ہم نے کب کہا تھا کہ ہم تم پر فوقیت رکھتے ہیں کب دعوے کئے تھے کہ غیر معمولی طاقتوں کے حامل ہیں تو ہم سے کیا مطالبہ کرتے ہو ئا گان لَنَا أَنْ نَأْتِيَكُمُ بِسُلْطنٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللهِ جس نے چنا ہے جس نے منصب عطا کیا ہے اسی کا کام ہے وہ سلطان دے تو دے ہم دکھائیں گے ورنہ خالی ہاتھ ہیں۔پس دیکھیں اس تفسیر کو قرآن کی یہ آیت اپنی ذات ہی میں کس طرح تقویت دے رہی ہے ایک طرف ایک پہلو بیان ہوا ہے دوسری طرف اس کے حقیقی معنوں کو تقویت دینے والا دوسرا پہلو بھی بیان فرما دیا گیا۔وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ اور اللہ ہی پر مومن تو کل کرتے ہیں۔تو کل کا مضمون بھی اس آیت کے حوالے سے ایک اور شان سے ہمیں سمجھ آتا ہے اللہ کے نبی کہہ رہے ہیں قوم سے کہ ہم خالی ہاتھ تھے ، ہمیں خدا نے احسان کے طور پر چنا ہم اس بحث میں تم سے نہیں الجھیں گے کہ تم سے بالا ہم میں کیا خوبی تھی جب اس کی نظر پڑی ہم روشن ہو گئے جیسے سورج کی شعائیں خواہ کیسی ہی تاریک اور سیاہ چیز پر پڑیں تو اس کو روشن کر دیتی ہیں تو ہم نے تو اللہ کے نور سے سب فیض پایا ہے، اسی نے ہمیں چنا اسی نے ہمیں روشن کیا اور ہمارے پاس ذاتی طور پر کچھ نہیں تھا پس تم جو یہ مطالبے کرتے ہو کہ یہ کر کے دکھاؤ اور وہ کر کے دکھاؤ یہ ہمارے دعوی کے برعکس ہیں۔ہم تو یہ دعویٰ کرتے ہی نہیں لیکن یہ جانتے ہیں کہ جس نے چنا اس نے ہر ضرورت پوری کی۔یہ جانتے ہیں کہ اس نے پشت پناہی فرمائی اور غیر کے مقابل پر بڑی قوت اور شان کے ساتھ پیچھے کھڑا ہوا ہے اور مجال نہیں کسی مخالف کی کہ ہمیں ٹیڑھی آنکھ سے دیکھ سکے ، اس کا کوئی بدا رادہ کا میاب نہیں ہونے دیا۔پس یہ ہماری طاقت سے نہیں تھا، یہ جانتے ہوئے کہ ہم کچھ نہیں ہیں پھر جو کچھ ہم نے پایا ہے یہ اس