خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 715 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 715

خطبات طاہر جلد 14 715 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 1995ء آپ کے اندر سے ایک مذکر پیدا کر دے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے۔وہ لوگ جو اجازتیں لیتے ہیں یا شروع میں کم دیتے ہیں کہ ہم میں اتنی طاقت نہیں اگر وہ دعا گو ہوں تو ضرور ان کے اندرا نقلاب برپا ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں ہم نے تو کہا تھا طاقت کی حد تک بوجھ ڈالنا ہم تو طاقت سے بہت کم پیش کر رہے ہیں اور اگر دعا میں طاقت ہو یا Sincerity اور خلوص ہو تو یہ خیال پیدا ہو یا نہ ہو یہ دعا پکڑ لیتی ہے اور ان کو پتا ہی نہیں لگتا یہ ہوا کیا ہے، ان کے دل میں عجیب عجیب طرح کی ندامتیں پیدا ہونے لگتی ہیں اور بعض لوگ مجھے خط لکھتے ہیں اور حیرت انگیز باتیں لکھتے ہیں۔کہتے ہیں ہم روتے ہوئے خط لکھ رہے ہیں۔ہمیں ہوا کیا تھا؟ ہم نے کیوں تھوڑے کی درخواست کی تھی۔ہم نے اپنی زندگی گنوائی اور کہتے ہیں ہم وعدہ کرتے ہیں ہم آئندہ بھی دیں گے پچھلا بھی پورا کریں گے مگر خدا کے لئے یہ سہولت ہم سے اٹھا لیں کیونکہ اب جیا نہیں جاتا اس سہولت کے ساتھ اور پھر اللہ ان کے مالوں میں برکت ڈالتا ہے اور ان کے ایمان میں برکت ڈالتا ہے ان کے کاموں کی توفیق میں برکت ڈالتا ہے۔تو عجیب لیکھے ہیں، یہ مضمون ہی الگ ہیں، کچھ ان کے لطف تو اٹھا کے دیکھو۔یہ وہ بوجھ نہیں ہیں جو بوجھ پڑتے ہوں تو زیادہ انسان بو جھل ہو جائے یہ تو وہ بوجھ ہیں جہپڑتے ہیں تو جسم ہلکے ہونے لگتے ہیں کیونکہ خدا پھر خودان بوجھوں کو اٹھاتا ہے۔وَاعْفُ عَنَّا کا مضمون یہی تو سمجھ رہا ہے کہ طاقت کے مطابق ڈالنا لیکن عفو سے کام لینا تا کہ ہم ان بوجھوں کو اٹھاتے ہوئے بالکل تکلیف محسوس نہ کریں۔اگر یہ مضمون اس میں نہ ہو تو عفو کے معنے ہی کچھ نہیں ہیں۔وَاغْفِرْ لَنَا اور جو کمزوریاں ہم میں ہیں ان سے بخشش سے کام لینا۔جو ہم پہلے کر بیٹھے ہیں ان کے نقصان اب ہم نہ اٹھا ئیں۔وَاغْفِرْ لَنَا کا مضمون اس دور سے تعلق رکھتا ہے جب اپنی نااہلی کی وجہ سے، اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہم نے اپنی طاقتوں کو پوری صلاحیت عطا نہیں کی اور اب ترس رہے ہیں کاش ہم میں طاقت ہوتی تو ہم آگے بڑھ کر زیادہ کام کر سکتے۔وَاغْفِرْ لَنَا اے خدا ہماری کوتاہیوں کو بخش دینا اور ان کے بد نتائج سے ہمیں محفوظ رکھنا۔وَارْحَمْنَا اور یہ حالت قابل رحم ہے ایک آدمی دعا کرتا ہے مجھے طاقت کے مطابق دے پھر ڈرتا ہے کہ اس کے باوجود میں کچھ بھی نہیں کر سکوں گا میری تو بہت تھوڑی طاقت ہے۔یہ حالت ہی بڑی قابل رحم ہے اس لئے دعا کا آخری نتیجہ یہ نکلا وَ ارْحَمْنَا ہم سے رحم کا سلوک فرمانا جیسے ماں باپ