خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 714 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 714

خطبات طاہر جلد 14 714 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 1995ء الله اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تصرف کے نتیجے میں آنحضرت ﷺ نے نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے لیکن خدا کی چال جب چلتی ہے تو کسی دشمن کی کچھ پیش نہیں جاتی۔تمام دشمن کیمپ میں جو بے شمار تعداد میں محمد صلى الله رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں سے زیادہ تھا یہ خوف بر پا ہو گیا کہ ایک تو اوپر سے آندھی چل پڑی ہے اور پھر ہماری آگئیں بجھ گئی ہیں۔اب یہ بھی کوئی نعروں سے تو نہیں بجھی تھیں۔وہ مشرک تھے، وہ آگ کی پرستش کرنے والے لوگ تھے ، تمام واقعات بیک وقت اکٹھے رونما ہوئے ہیں اور ایک خاص مقصد کی خاطر ایسا ہوا ہے۔وہ جو آندھی چلی ہے تو وہ آگ جس کی وہ بڑی حفاظت کیا کرتے تھے جس کو خدائی کا نشان سمجھتے تھے تیز آندھیوں میں بھی وہ جلتی تھی اور جلتی رہتی تھی لیکن یہ وہ آندھی تھی جس کا مقابلہ وہ آگ نہ کر سکی اور وہ ایک نشان بن گئی کہ اب تمہاری آگ کے بجھنے کے دن آگئے ہیں۔وہ جب دیکھا تو مشرک تو ہم پرستوں کے تو چھکے چھوٹ گئے اور ان کے لیڈر نے فوری طور پر اپنی اونٹنی کو پکڑا ہے اور پیشتر اس کے کہ وہ اعلان کر سکتا اس نے خود بھاگنے کی کی۔وہ سمجھا کہ اب دشمن آ پہنچا ہے ہمارے اوپر اور حالت یہ تھی کہ وہ کلے سے بندھی ہوئی تھی اس کو کھولنا بھی بھول گیا۔اس کو ایڑ لگا تا تھا، مارتا تھا اور اس سے بھا گا نہیں جاتا تھا۔اس سر اسمیگی کے عالم کو دیکھ کر سارے دشمن کیمپ میں افرا تفری پڑ گئی اور وہ اٹھ دوڑے۔تو یہ اس کی بنیاد اگر دیکھیں تو کمک سے بنتی ہے۔کمک کا مضمون بڑا گہرا ہے جو جنگی داؤ پیچ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے مگر یہ کمک تھی جو اللہ کی طرف سے آئی تھی۔آپ کی کمک بھی اللہ ہی کی طرف سے آئے گی مگر آپ وہ ہاتھ پاؤں ضرور ماریں گے، آپ کو مارنے ہوں گے کہ وہ لوگ جو بغیر کام کے بیٹھے ہوئے ہیں ان کو ساتھ شامل کر لیں۔اس کے نتیجے میں طبیعی طور پر آپ میں حوصلہ پیدا ہوگا اور یہ لوگ فرشتوں کی طرح آپ کے دلوں کو طاقت بخشیں گے۔پس اپنے میں سے بھی آدمی ڈھونڈیں اور ان کی تربیت کریں اور جونئی قو میں ہم میں داخل ہورہی ہیں ان پر جلد از جلد ذمہ داریوں کے بوجھ ڈالیں۔میں نے افریقہ کے احمدیوں کو یہ ہدایت کی تھی کہ اگر غربت ہے تو خواہ ایک پیسہ لینا ہو ان کو یہ نہ کہو کہ ہمیں تم اپنی آمد کا سولہواں حصہ ضرور دو۔میری طرف سے اجازت ہے ان کو آپ کہیں کہ اگر تم ایک دمڑی، ایک پیسہ بھی دے سکتے ہو تو خدا کے حضور پیش کرنا ہے تم نے ، دعا کرتے ہوئے اللہ کے حضور پیش کرو کہ اے خدا میں یہ اپنی طاقت سمجھتا ہوں اور پھر یہ دعا جب کرو گے کہ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ تو یہ دعا خود