خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 713 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 713

خطبات طاہر جلد 14 713 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 1995ء ہونے لگیں تو سوچیں کہ جماعت کی طاقت کتنی بڑھ جائے گی۔اگر یہ جماعت نہ بھی پھیلے صرف استعدادوں میں ہی نشو و نما پائے اور اونچی ہونے لگے تو دنیا کی عظیم ترین جماعت بنے کی صلاحیت آج بھی آپ میں موجود ہے، ایسی عظیم جو ساری دنیا میں انقلاب بر پا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔لیکن اس پر آپ جمع کریں وہ نئے آنے والے، اگر ان کی تربیت کا آپ حق ادا کریں تو پھر اندازہ کریں کہ خدا کے فضل کے ساتھ روز مرہ کتنی بشاشت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔جب ایک پارٹی کام کر رہی ہو اور اس کی طاقت کے برابر کام ہو، ابھی کام باقی ہو کچھ نئے آنے والے شامل ہو جائیں تو دیکھو کیسا ان کو حوصلہ ملتا ہے اور اسی وجہ سے ان کی طاقت بھی بڑھ جاتی ہے۔اگر نئے آنے والے شامل نہ ہوں تو بعض دفعہ وہ انسان نفسیاتی مایوسی کا شکار ہو کر اپنی طاقت کو پوری طرح استعمال کرنے کا اہل نہیں رہتا ، طاقت ہوتے ہوئے بھی وہ کام کو اپنی طاقت سے بڑھتا ہوا دیکھتا ہے لیکن یہ لازم ہے کہ اگر ایسی صورت میں کمک آجائے تو اچانک نئے حوصلے پیدا ہوتے ہیں، بڑے ولولے پیدا ہو جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پھر دشمن کے دل ہار جاتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے جنگ احزاب میں ایک ایسی بات کی جس کی بہت سے مؤرخین کو سمجھ نہیں آتی۔جب آندھی چلی ہے اور دشمن کے خیمے اکھڑنے لگے تھے ابھی سراسمیگی کا عالم طاری نہیں ہوا تھا تو آنحضرت ﷺ نے بڑے زور اور بڑی قوت سے نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے۔آپ نے وہ نعرے اس لئے بلند کئے تھے کہ آپ خدا کی طرف سے آثار رحمت کو آتا ہوا دیکھ رہے تھے اور بعید نہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا ہو کہ دشمن کے بھاگنے کا وقت آ گیا ہے۔مگر وہ نعرے جو تھے انہوں نے دو طرح کام کیا۔سخت تھکے ہوئے ، سخت کمزور مسلمانوں میں نئی جان پڑ گئی، ایسے حیرت انگیز جوش اور ولولے سے بھر گئے کہ تمام مسلمانوں کا کیمپ نعرہ ہائے تکبیر سے گونج اٹھا اور دشمن نے جب یہ سنا تو وہ یہ سمجھا کہ صرف آندھی ہی نہیں ان کو کوئی کمک حاصل ہوگئی ہے کیونکہ اتنا بڑا حوصلہ اتنی تھکی ہوئی جماعت میں سوائے اس کے پیدا ہو ہی نہیں سکتا کہ کہیں سے کمک آ گئی ہو۔کمک تو آئی تھی لیکن وہ فرشتوں کی کمک تھی جس کو وہ دیکھ نہیں سکتے تھے۔پس اس نے دوہرا کام کیا اور مؤرخین یہ صلى الله ضرور بتاتے ہیں۔خاص طور پر جو مستشرقین ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ نعوذ باللہ ، رسول اللہ ﷺ نے چال چلی تھی۔چال کیسی چلی تھی اس کے ساتھ تو ساری ہوا چل پڑی تھی ، آندھی بر پا ہو گئی تھی یہ خدا کی چال تھی