خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 710
خطبات طاہر جلد 14 710 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 1995ء دیتے ہیں۔مگر جو میں شمار بتا رہا ہوں ان میں ان کی گنتی نہیں ہوتی یعنی لاکھ دو لاکھ جتنے بھی با قاعدہ دینے والے ہیں ان میں ان کو شمار نہیں کیا جاتا تو ان کو بھی چندہ دہندہ بنانا یہ بھی ان کی طاقت بڑھانے کے لئے ضروری ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ابھی ایک بڑی گنجائش ان لوگوں میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر ان کے اوپر ہمیں توفیق بخشے کہ طاقت کے مطابق بوجھ ڈالیں تو پھر ان کی طاقتیں بڑھانا شروع کر دے گا اور اگر استطاعت تک جماعت کی طاقتیں پھیل جائیں تو دنیا تو ایک چھوٹی سی چیز آپ کے سامنے رہ جائے گی اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہ جاتی۔جو تبلیغ والے ہیں وہ چندوں کے لحاظ سے، چندہ دینے والوں میں ابھی بہت پیچھے ہیں کیونکہ چندہ دینے کا نظام حضرت مصلح موعودؓ کے زمانے میں بہت ہی محنت کے ساتھ بڑے لمبے عرصے میں مستحکم کیا گیا ہے اور دعوت الی اللہ کا نظام ابھی گزشتہ دس بارہ سال کی بات ہے یہ با قاعدہ چندے کے نظام کے طریق پر بلکہ بعض جگہ اس سے بھی زیادہ کوشش کے ساتھ مستحکم کیا جا رہا ہے اور اب تک جو خدا کے فضل سے نتائج نکلے ہیں وہ حیرت انگیز ہیں، میری توقع سے بہت بڑھ کر ہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ کسی شخص کو جو نا دہندہ ہو، دہندہ بنانا نسبتاً آسان ہے مگر غیر مبلغ کو مبلغ بنادینا کہ وہ آگے پھر پھل پیش کر سکے یہ ایک بہت مشکل کام ہے۔اس لئے جو کچھ ہم نے حاصل کیا ہے محض اللہ کا احسان ہے اس میں ہمارے نفس کو کسی دھو کے میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ خدا نے ہمیں اس زمانے میں داخل کر دیا تھا جو پھلوں کا زمانہ ہے جونئی بہاروں کا زمانہ ہے۔ہم اس دور میں داخل ہو چکے ہیں جس دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کام شروع کیا تھا اور جس دور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ سے غیر معمولی نشانات پاتے ہوئے حیرت انگیز انقلابات کی بنیا درکھی تھی۔پس میں سمجھتا ہوں کہ ہر صدی کے بعد یہ موسم آیا کریں گے اور ان معنوں میں دین کی تجدید ہوا کرے گی لیکن خلیفہ، خلیفہ ہی ہوگا مجدد نہیں ہوگا۔خدا تجدید کیا کرے گا کیونکہ وہ موسم جب خدا کے بڑے بڑے عظیم مقرب بندے پیدا ہوتے ہیں اور بڑے کام شروع کرتے ہیں ان موسموں میں بھی ایک برکت پڑتی ہے ان میں دہرائے جانے کی طاقت ہوتی ہے۔پس جس طرح تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے یعنی برے معنوں میں دہرائے جانے کی طاقت ہوتی ہے۔اس طرح اللہ کے فضل سے میں سمجھتا ہوں کہ اچھی تاریخ بھی اپنے آپ کو دہراتی ہے اور