خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 709 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 709

خطبات طاہر جلد 14 709 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 1995ء بوجھ ڈال تو اب تیری طاقت تمیں میل ہو چکی ہے، اٹھ اور تمیں میل چل کے دکھا اور جب وہ تمیں میل چلے گا تو پھر جب تک استطاعت کا آخری کنارہ نہیں آتا اس کی طاقت بڑھتی رہے گی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سے مطالبے بھی بڑھتے چلے جائیں گے۔پس اس پہلو سے جماعت کی تربیت کرنے میں لازم ہے کہ ہم سب احمدیوں پر طاقت کے مطابق بوجھ ڈالیں اور یہ نہ ہو کہ یہ فعال حصہ ہے، یہ غیر فعال حصہ ہے۔غیر فعال پر جب ذمہ داری ڈالی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دل میں ایمان ہے اور دین کی محبت تو ضرور موجود ہوتی ہے اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ رحم فرماتا ہے اور پھر ایسے لوگوں کو طاقت کے مطابق ہی نہیں، پھر طاقت کو بڑھا کر ، پہلی طاقت سے بہت بڑھ کر بوجھ اٹھانے کی توفیق بخش دیتا ہے۔پس ایک تو یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی عددی طاقت کو حد استطاعت تک استعمال کر دیں۔جتنی ہماری عددی طاقت ہے اس وقت اس کا پانچ فیصد یا دس فیصد استعمال ہو رہا ہے۔اگر تمام نو مبائعین کو شامل کر لیا جائے تو ہوسکتا ہے دو فیصد استعمال ہورہا ہو اور جو بھی خدا تعالیٰ ہمیں پھل عطا فرمارہا ہے یہ تمام عالمی جماعت کے دو فیصد کا نتیجہ ہوگا یا مالی لحاظ سے اگر دیکھیں تو شاید پانچ فیصد کا نتیجہ ہو کیونکہ اگر ہم ایک کروڑ ہیں تو ساری دنیا میں کل چندہ دہندگان ہر طرح کے ملا کر پانچ لاکھ سے زیادہ نہیں۔اگر چار لاکھ ہیں تو پھر چار فیصد ہے جو حصہ لے رہا ہے لیکن چندے میں یہ جو فیصد ہے اس کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔جب تعداد گنتے ہیں تو اس میں نہ کمانے والے بچے بھی گن لئے جاتے ہیں اور اس کے علاوہ عورتیں ہیں جو خود گھر چلانے کی ذمہ داری ادا کر رہی ہیں، کما تو رہی ہیں مگر اور رنگ میں کما رہی ہیں۔وہ اپنی محنت کا پھل کھاتی ہیں مگر خاوند کے مال پر گھر چلتا ہے اس لئے لگتا یہ ہے کہ صرف خاوند کما رہا ہے۔وہ بھی کچھ نہ کچھ چندہ ضرور دیتی ہیں مگر بچے تو اکثر چندوں کی استطاعت نہیں رکھتے۔اس لئے اگر چار لاکھ بھی ہو میں نے ابھی تک پورا صحیح اندازہ نہیں لگایا لیکن شاید چار لاکھ سے بھی کم ہو، ہوسکتا ہے دولاکھ ہو۔تو دو لاکھ کا مطلب یہ ہوگا کہ جو ہمارے کمانے والے ہیں ان کا تقریباً بیس فیصد ایسا ہے جو چندے دے رہا ہے اور بڑی وجہ اس کی یہ ہے کہ بہت سے ایسے علاقے ہیں مثلاً افریقہ کے جہاں جماعت کثرت سے پھیل رہی ہے، پھر یورپ کی نئی قوموں میں بڑی کثرت سے پھیل رہی ہے، ان کو ابھی ان باتوں کا پتا ہی نہیں کہ مالی قربانی کیا ہوتی ہے۔اس لئے کبھی کبھی جب ان سے مطالبے کئے جاتے ہیں کچھ نہ کچھ وہ پیش کر