خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 66
خطبات طاہر جلد 14 66 66 خطبہ جمعہ 27 جنوری 1995ء سب رفقاء کار کے لئے جو جماعت میں ہر جگہ میرے ساتھ کام کر رہے ہیں اور تمام دنیا کے لئے یہی دعائیں کریں اس رمضان میں جیسا کہ میں ہر رمضان میں کسی خاص دعا کی طرف توجہ دلاتا ہوں میں اس رمضان میں آپ کو اس دعا کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔اب میں چند احادیث رمضان کے تعلق میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جو مختلف پہلوؤں سے رمضان کے تعلق میں ہماری ذمہ داریاں ہم پر روشن کر رہی ہیں اور رمضان کے فیوض بیان کر رہی ہیں اور وہ احادیث جو ہمیں دکھا رہی ہیں کہ یہ مہینہ اتنا برکتوں والا ہے، ایسا مغفرتوں والا ہے کہ اگر اس سے بھی خالی ہاتھ گزر گئے تو بہت بڑی محرومی ہوگی۔پس اس پہلو سے میں چنداحادیث آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ایک ترمذی کتاب الدعوات باب ما يقول عند روية الهلال میں مذکور حدیث ہے۔صلى الله حضرت طلحہ بن عبید اللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ہے جب نیا چاند دیکھتے تو یہ دعا کرتے اے میرے خدا! یہ چاند امن و امان اور صحت و سلامتی کے ساتھ ہر روز نکلے۔یہ جو دعا ہے اس سے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی وسیع تر نظر کی طرف خیال متوجہ ہوتا ہے۔رمضان کا مہینہ بہت برکتوں والا ہے لیکن رمضان کا چاند جو امن کا پیغام لاتا ہے، جو نیکی کا پیغام لاتا ہے آپ یہ دعا نہیں کرتے کہ اس مہینے کا چاند روزانہ ایسا نکلے۔آپ دعا کرتے ہیں اے خدا ہمارا سارا سال ایسا ہو جائے کہ وہ برکتیں جو اس چاند کے ساتھ وابستہ ہیں وہ امن جو اس چاند کے ساتھ وابستہ ہے وہ ہمارے ہر روز کے چاند کے ساتھ وابستہ ہو جائے۔امن اور صحت اور سلامتی کے ساتھ ہر روز نکلے۔اے چاند! میرا رب اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہے۔یعنی چاند کے ساتھ کوئی ذاتی تعلق نہیں ہے۔یہ اللہ کے بعض فرمودات بعض اللہ تعالیٰ کے ارشادات کا نشان بنتا ہے تو اچھا لگتا ہے اس کے بغیر اس سے ہمارا ذاتی تعلق نہیں ہے۔اے چاند ! میرا رب اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہے، تو خیر و برکت اور رشد و بھلائی کا چاند بن۔اس کی عربی یاد کرنا تو مشکل ہو گا لیکن اردو الفاظ یا درکھیں۔میں ایک دفعہ پھر دہراتا ہوں۔جب بھی نیا چاند نکلتا تو آنحضور ﷺ اپنے رب کے حضور یہ دعا عرض کرتے۔اے میرے خدا! یہ چاند امن و امان اور صحت و سلامتی کے ساتھ ہر روز نکلے۔اے چاند ! میرا رب اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہے تو خیر و برکت اور رشد و بھلائی کا چاند بن۔