خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 703
خطبات طاہر جلد 14 703 خطبہ جمعہ 22 ستمبر 1995ء کہ جن پر جب بوجھ ڈالے جائیں تو وہ اور زیادہ ہلکے قدموں کے ساتھ ،خوشی کے ساتھ ، ذوق شوق سے آگے بڑھتے ہیں اور مزید کا مطالبہ کرتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کو معمولی کاموں کی طرف بلا ؤ تو تب بھی ان کے دل بھاری ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ جو نظام مقرر کیا ہے اس کے ساتھ ایک دعا بھی جاری فرمائی ہے اور وہ دعا یہ ہے رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ (البقره: 287) کہ اے ہمارے اللہ ، اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالنا جو ہماری طاقت سے بڑھ کر ہوں۔اب یہ مضمون پہلے بھی میں کھول چکا ہوں اس وقت جو باتیں پہلے کر چکا ہوں ان کو نہیں دہراؤں گا۔صرف یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ اس سے غلط فہمی شاید یہ پیدا ہو جاتی ہے کہ مومن بوجھ سے بھاگ رہا ہے اور اسے خوف ہے کہ اللہ اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈال دے گا۔طاقت کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ استطاعت اور چیز ہے اور طاقت اور چیز ہے۔ایک انسان جو بہت زیادہ کھانے کی استطاعت رکھتا ہو جب بیمار ہو جائے تو بہت تھوڑا کھانے کی طاقت رکھتا ہے۔ان دو چیزوں میں بہت فرق ہے۔یہ تو ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ استطاعت سے بڑھ کر بوجھ ڈال دے ہاں جتنی استطاعت عطا فرمائی ہے ہم اسے استعمال نہ کر رہے ہوں اور کمزور ہور ہے ہوں، ہمیں ٹانگیں دی ہیں ہمیں باز و دیئے ہیں ، ہم ان کو استعمال نہ کریں اور عدم استعمال کی وجہ سے ایسے لاغر ہو جائیں کہ اگر لمبا عرصہ استعمال چھوڑ دیں تو بعض دفعہ لوگوں کو ہمیں اٹھائے لئے پھرنا پڑے گا۔اگر بچوں کو چلنے کی تربیت نہ دی جائے تو آٹھ دس سال کی عمر تک اسی طرح رہنے دیں تو شاید ان کو چلنا آئے ہی نہ پھر۔اگر بولنے کی تربیت نہ دی جائے تو اس پر تو سائنسدانوں نے تجربے کئے ہیں کہ اگر گیارہ بارہ سال تک صلاحیتوں کے باوجود، استطاعت کے باوجود، بچے کی طاقت کو استعمال نہ کیا جائے اور اسے تربیت نہ دی جائے تو اس کے بعد پھر کبھی سیکھ ہی نہیں سکتا، اس کی صلاحیت مرجاتی ہے۔پس یہ وہم دل سے نکال دیں کہ آپ کو خدا نے یہ دعا سکھائی ہے کہ ہماری استطاعت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالنا ، یہ دعا نہیں یہ تو خدا تعالیٰ کے لئے ایک دشنام دہی ہے۔نعوذ باللہ من ذلک اللہ ایسا عقل سے خالی ہے کہ وہ لوگوں پر جتنی استطاعت کا ان کو بنایا ہے اس سے بڑھ کر بوجھ ڈالتا پھرے، یہ تو خدا تعالیٰ کی ہستی پر الزام ہے، یہ دعا نہیں ہے۔اس لئے یا درکھیں كه وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِہ میں مراد یہ ہے کہ تو نے ہمیں بہت استطاعتیں بخشی ہیں